الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر فوت ہونے والے کے وراثوں میں مذکورہ وارث ہی زندہ ہیں،ایسے ہی جو بیٹا فوت ہوا ہے اس کے وارثوں میں سے بھی صرف وہی زندہ ہیں جن کا ذکر سوال میں ہے تو جائیداد کی تقسیم درج ذیل طریقے سے ہوگی۔
|
نمبرشمار |
میت کا ورثاء |
جائیداد کی تقسیم |
کل مال کے نو حصے کر لیے جائیں |
|
1 |
چار بیٹے |
سارا مال چاربیٹوں اور ایک بیٹی میں تقسیم ہو گا۔ |
ہربیتے کو دو، دو حصے اور ایک حصہ بیٹی کو ملے گا۔ |
|
2 |
ایک بیٹی |
بیٹے اور بیٹیوں کے حصے کی دلیل:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ (النساء: 11)
اللہ تعالی تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے، مرد کے لیے دوعورتوں کے حصے کے برابر حصہ ہے۔
فوت ہونے والا بیٹا بھی اپنے باپ کی وراثت سے حق دار ہے، باپ کی کل جائیداد سے جو دو حصے اس کے تھے وہ اس کی اولاد میں درج ذیل طریقے سے تقسیم ہوں گے۔
|
نمبرشمار |
میت کا ورثاء |
جائیداد کی تقسیم |
کل مال کے آٹھ حصے کر لیے جائیں |
|
1 |
دو بیٹے |
سارا مال دوبیٹوں اور چار بیٹیوں میں تقسیم ہو گا۔ |
ہربیتے کو دو ، دوحصے اور ہر بیٹی کو ایک، ایک حصہ ملے گا۔ |
|
2 |
چار بیٹیاں |
بیٹے اور بیٹیوں کے حصے کی دلیل:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ (النساء: 11)
اللہ تعالی تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے، مرد کے لیے دوعورتوں کے حصے کے برابر حصہ ہے۔
والله أعلم بالصواب.