سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اسلام میں لواطت کی سزا
  • 7143
  • تاریخ اشاعت : 2026-10-14
  • مشاہدات : 34

سوال

اگر کوئی آدمی دوسرے لڑکوں کے ساتھ زنا کرتا ہے تو اسلام میں اس کی کیا سزا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لواطت بدترین قسم کی فحاشی ہے، ذیل میں دیے گئے دلائل سے اس جرم کی قباحت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ (النمل:54-55)

اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم بے حیائی کو آتے ہو، جب کہ تم دیکھتے ہو۔ کیا بے شک تم واقعی عورتوں کو چھوڑ کر شہوت سے مردوں کے پاس آتے ہو، بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ جہالت برتتے ہو۔

  اللہ تعالیٰ نے اس کی وجہ سے قوم لوط کو تباہ و برباد کر دیا تھا اور انہیں دنیا میں زبردست سزا دی ۔

فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ (هود: 83)

پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچا کر دیا اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں سے نشان لگائے ہوئے تھے اور وہ ان ظالموں سے ہرگز کچھ دور نہیں۔

سیدنا ابن عباس  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ, فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ (سنن أبي داود، الحدود: 4462، سنن ترمذي، أبواب الحدود، 1456) (صحيح)

جسے تم پاؤ کہ وہ قوم لوط کا سا عمل کرتے ہیں تو فاعل اور مفعول (دونوں) کو قتل کر دو۔

تمام صحابہ كرام رضوان اللہ علیہم  كا اتفاق  ہے کہ قوم لوط کے عمل کے مرتکب شخص کو قتل کیا جائے گا، ليكن قتل كرنے كے طريقہ ميں اختلاف ہے۔ ابوبكر صديق اور على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہما اسے جلا كر قتل كرنے كے قائل ہيں، ابن عباس رضی اللہ عنہما كى رائے ہے كہ اسے اونچى جگہ سے گرا كر اس پر پتھر برسائے جائيں۔ بعض صحابہ كرام رضوان اللہ علیہم  اسے پتھروں سے رجم كرنے كے قائل ہيں حتى كہ وہ ہلاك ہو جائے۔ ۔(ديكھيں: المغنى از  ابن قدامہ ، جلد 9، ص 60-61) (مصنف ابن ابی شیبہ: 28925)

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے