الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
میت کو کسی بھی نیک عمل کا ثواب نہیں پہنچتا، صرف انہی اعمال کا ثواب پہنچتا ہے، جن کے بارے میں دلیل موجود ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم: 39)
اور یہ کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَه. (صحيح مسلم، الوصية: 1631).
جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال منقطع ہو جاتے ہیں مگر تین (یعنی تین طرح کے اعمال کا ثواب اسے مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے) : صدقہ جاریہ، علم جس سے فائدہ حاصل کیا جاتا رہے، نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپکے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ، آپکی زوجہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، اور آپکی تین بیٹیاں رضی اللہ عنہن فوت ہوئیں، لیکن کسی حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کی طرف سے قرآن پڑھا ہو، یا خاص انکی طرف سے قربانی ، روزہ، یا نماز پڑھی ہو، یا درود شریف پڑھ کے انہیں ثواب پہنچایا ہو،ایسے ہی صحابہ کرام کی طرف سے بھی کوئی ایسا عمل منقول نہیں ہے، اور اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو صحابہ کرام ہم سے پہلے یہ کام کر چکے ہوتے۔
عبادات کے معاملے میں قرآن وسنت کی نصوص کی پابندی کرنا لازمی ہے، لہذا انہی اعمال کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کے بارے میں دلیل موجود ہے۔
دلیل کی رو سے جن اعمال کا ثواب اور فائدہ میت کو پہنچتا ہے وہ درج ذیل ہین:
1. اولاد یا کوئی اور شخص اس کے لیے دعا کرے۔ (صحیح مسلم: 1631)
2. کوئی شخص اس کی طرف سے صدقہ کرے۔ (صحیح بخاری: 2756)
3. اس کی طرف سے کوئی حج یا عمرہ کرے۔ (صحیح مسلم: 1149)
4. کوئی اس کا قرض ادا کر دے۔ (سنن ترمذی: 1078)
5. کوئی اس کی نذر پوری کر دے۔ (صحیح بخاری: 1852)
6. اگر میت نے فرض روزے چھوڑے ہوں، جن کی قضائی اس نے نہ دی ہو، کوئی اس کی طرف سے قضائی دے دے۔ (صحیح مسلم: 1149)
7. صدقہ جاریہ:انسان اپنی زندگی میں کوئی ایسا کام کر گیا ہو جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا رہے، جیسے کوئی مسجد بنوا دی ہو، کسی کو قرآنِ کریم دے دیا ہو، کسی جگہ فلٹر پلانٹ لگوا دیاہو وغیرہ ۔ (صحیح مسلم: 1631)
8. نفع بخش علم: انسان نے اپنی زندگی میں کسی کو اچھی تعلیم دی ہو، کوئی کتاب لکھی ہو، یا کوئی اچھی پوسٹ شیئر کی ہو، جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں۔ (صحیح مسلم: 1631)
انسان كو چاہیے کہ وہ رمضان المبارك ميں قرآن مجيد کی تلاوت كثرت سے کرے اور کوشش کرے قرآن مجید مکمل کرے بلکہ ایک سے زائد مرتبہ مکمل کرنے کی کوشش کرے کیونکہ رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا افضل ترين عمل ہے، لیکن قرآن مجید ختم کرنا واجب نہیں ہے یعنی اگر ختم نہ کر سکے تو گناه گار نہیں ہوگا، ليكن وہ بہت عظيم اجروثواب سے محروم رہے گا۔
سيدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور آپ بہت زیادہ سخاوت رمضان المبارک میں کرتے تھے جبکہ آپ سے حضرت جبرئیل عليہ السلام سے ملاقات کرتے تھے۔ اور وہ رمضان المبارک میں ہر رات آپ سے ملاقات کرتے اور آپ سے قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے۔ اور جب حضرت جبرئیل ؑ آپ سے ملاقات کرتے تو آپ صدقہ وخیرات کرنے میں کھلی تیز ہوا (تیز آندھی) سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔ حضرت معمر نے بھی اپنی سند سے اسی طرح بیان کیا ہے، نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔ (صحيح البخاري، كتاب بدء الخلق: 3220)
سلف صالحین نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ پر عمل كرتے ہوئے رمضان المبارك ميں كم ازكم ايك مرتبہ قرآن مجيد ختم كيا كرتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک مہینے میں“ انہوں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ بالآخر آپ ﷺ نے فرمایا: ”سات دنوں میں پڑھو۔“ انہوں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ (سنن أبي داود، كتاب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله: 1390) (صحيح)
”جس شخص نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا، اس نے اسے سمجھا ہی نہیں۔“
قتادہ رحمہ اللہ سات راتوں ميں قرآن ختم كيا كرتے، اور جب رمضان المبارك شروع ہوتا تو تين راتوں ميں ختم كرتے، اور جب آخرى عشرہ شروع ہوتا تو ہر رات قرآن مجيد ختم كرتے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء، جلد نمبر 5، ص 276)
قاسم بن حافظ ابن عساكر رحمہ اللہ كہتے ہيں: ميرے والد نماز باجماعت اور تلاوت قرآن كى پابندى كرتے تھے، اور ہر جمعہ قرآن مجيد ختم كرتے، اور رمضان المبارك ميں ہر روز قرآن مجيد ختم كرتے۔ (سیر اعلام النبلاء، جلد نمبر 20، ص 562)
ربيع بن سلمان كہتے ہيں: امام شافعى رحمہ اللہ رمضان المبارك ميں ساٹھ بار قرآن ختم كيا كرتے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء، جلد نمبر 10، ص 36)
ابراہيم نخعى رحمہ اللہ بيان كرتے ہيں كہ: اسود رحمہ اللہ رمضان المبارك ميں ہر دو راتوں ميں قرآن مجيد ختم كيا كرتے تھے۔(سیر اعلام النبلاء، جلد نمبر 4، ص 51)
والله أعلم بالصواب.