سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
منگیتر سے ولی کی موجودگی کے بغیر آن لائن نکاح کرنا
  • 7068
  • تاریخ اشاعت : 2026-09-02
  • مشاہدات : 12

سوال

میرے منگیتر مدینہ میں رہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم لوگ ابھی نکاح کر لیں اور خاندان میں نہ بتائیں تاکہ گناہ نہ ملے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسجد نبوی میں آن لائن نکاح کروا لیں، پھر ایک سال بعد پاکستان میں خاندان کے سامنے بھی نکاح ہو جائے اور رجسٹر بھی کر وا لیں گے۔ کیا شریعت میں ایسا کرنا جائز ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جنسی خواہش ہر انسان کی فطرت ہے۔ اسلام نے اسی فطرت کی تسکین کے لیے نکاح کو جائز قرار دیا ہے اور اس کے کچھ شروط اور ارکان بیان کیے ہیں، جن کا پایا جانا  لازمی ہے ورنہ نکاح شرعی لحاظ سے درست نہیں ہو گا۔

نکاح کے تین ارکان ہیں :

1. خاوند اوربیوی کا ہونا کیوں کہ ان کے بغیر نکاح ممکن نہیں ہے، یہ بھی تاکید کرنا ضروری ہے کہ ان دونوں کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہو وہ ایک دوسرے کےمحرم نہ ہوں۔

2. حصول ایجاب: ایجاب کے الفاظ عورت کے ولی یا پھر اس کے قائم مقام کی طرف سے اس طرح ادا ہوں کہ وہ خاوند کو کہے کہ میں تیری شادی فلاں لڑکی سے کرتا ہوں یااس سے ملتے جلتے کوئی الفاظ کہے۔

3. حصول قبول: قبولیت کے الفاظ خاوند یا اس کا قائم مقام  ادا کرے گا، مثلا: وہ یہ کہے کہ میں نے قبول کیا یا اسی طرح کے کوئی الفاظ۔

نکاح کی شروط درج ذیل ہیں:

1. خاوند اور بیوی کا تعین کرنا،  یہ تعین نام، اشارے  یا اس کی کوئی  صفت بیان کرکے  کیا جا سکتا ہے۔

2. خاوند اوربیوی کی رضامندی:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ البِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ. (صحيح البخاري، النكاح: 5136، صحيح مسلم، النكاح: 1419).

شوہر دیدہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کےبغیر نہیں کیا جا سکتا، کنواری عورت سے بھی نکاح کی اجازت لی جائے گی، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم  کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ! ( کنواری ) کی اجازت کس طرح ہوگی، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔

3. عورت کے لیے ولی کا ہونا بھی شرط ہے۔

سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا نِكَاحَ إلا بِوَليٍّ. (سنن أبي داود، النكاح:2085، سنن ترمذي، النكاح: 1101، سنن ابن ماجه، النكاح: 1881) (صحیح).

ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

دوسری حدیث میں سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أيُّما امرأةٍ نكَحَتْ بغيرِ إذن مَوَاليها فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ. (سنن أبي داود، النكاح: 2083، سنن ترمذي، النكاح: 1102) (صحيح).

جس عورت نے بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔

4. اسی طرح نکاح کے وقت دو گواہوں کی موجودگی بھی شرط ہے۔ جیسا کہ  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَشَاهِدَيْ عَدْل. (صحیح الجامع: 7557).

ولی اور دو گواہوں کی موجودگی کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوتا۔

نکاح کے وقت مذکورہ بالا تمام ارکان اور شروط کا پایا جانا ضروری ہے، لہذا اگر فون کال یا آن لائن کسی ایپ کے ذریعے نکاح کیا گیا ہے، اس میں نکاح کے ارکان اور شروط پوری ہیں، یعنی خاوند اور بیوی کا تعین کیا گیا ہے، وہ دونوں رضا مند بھی ہیں، ولی اور دو گواہ موجود ہیں، ایجاب و قبول کروایا گیا ہے، اور فون کال پر آواز پہچانی جا رہی ہے، اگر ویڈیو کال ہے تو اس میں تصویر واضح ہے تو ایسا نکاح شرعی طور پر صحیح تصور ہو گا۔

آپ کے سوال سے ظاہر ہو رہا ہے کہ آپ دونوں اپنے والدین اور گھر والوں کو بتائے بغیر آن لائن نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، یعنی اس  میں ولی موجود نہیں ہو گا۔ اگر ایسی صورت حال ہے تو یہ نکاح صحیح نہیں ہو گا کیونکہ ولی کا ہونا نکاح میں شرط ہے۔

اگر ولی موجود ہے اور نکاح کے باقی ارکان وشروط پورے ہیں تو یہ نکاح صحیح ہے، آپ دونوں خاوند اور بیوی ہیں او ر ایک دوسرے کے لیے حلال ہیں۔ ایک سال بعد دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ دوبارہ نکاح کرنے سے پہلا نکاح ختم نہیں ہو گا، بلکہ یہ صرف  برادری  کے سامنے تاکید اور توثیق کے طور پر ہوگا۔ نکاح کے احکام پہلے نکاح کے وقت سے ہی شروع ہیں ۔ لہٰذا دوسرے نکاح میں نئی شرائط عائد کرنا یا پہلے نکاح میں طے شدہ  حق مہر سے مختلف مہر مقرر کرنا درست نہیں ہوگا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے