سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
الیکڑک مشین سے مچھر مارنا
  • 7066
  • تاریخ اشاعت : 2026-10-09
  • مشاہدات : 96

سوال

کیا مچھر مارنے والی الیکٹرک مشین سے مچھر مارنا جائز ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں  کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک فوجی دستے کے ہمراہ روانہ کیا اور فرمایا:

إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الخُرُوجَ: إِنِّي أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلاَنًا وَفُلاَنًا، وَإِنَّ النَّارَ لاَ يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا (صحيح البخاري، الجهاد والسير: 3016)

اگر تم فلاں، فلاں آدمی کو پا لوتو انھیں آگ میں جلادو۔‘‘ جب ہم نے روانگی کا پروگرام بنایا تو پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمھیں فلاں، فلاں آدمی کو جلا دینے کاحکم دیا تھا، اب بات یہ ہے کہ آگ کے ساتھ صرف اللہ ہی عذاب دیتا ہے، لہذا اگر تم انھیں پاؤ تو قتل کردو۔

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے  کہ آگ کے ذریعے عذاب دینا صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، لہٰذا کسی بھی انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی  کو آگ کے ذریعے عذاب  دے۔

الیکٹرک مشینوں سے مچھروں یا کیڑے مکوڑوں کی موت جلنے سے نہیں بلکہ بجلی کے جھٹکے سے ہوتی ہے اس لیے اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے، لہٰذا یہ آگ کے ذریعے عذاب دینے میں شامل نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر آپ اس طرح کی مشینوں میں کوئی کپڑا یا کاغذ رکھ دیں تو وہ نہ تو اس کے ساتھ چمٹے گا اور نہ ہی جلے گا۔

لیکن اس طرح کی مشینیں صرف اس وقت استعمال کرنی چاہییں جب ضرورت پیش آئے، مثلاً یہ کہ مکھیاں اتنی زیادہ ہو جائیں کہ تکلیف دینے لگیں، یا مچھر بہت زیادہ ہو جائیں، یا اسی طرح کے دوسرے نقصان دہ کیڑے کثرت سے پیدا ہو جائیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے