الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر انسان کا بعض مال حرام اور بعض حلال کا ہو، تو اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ممکنہ تین صورتیں ہو سکتی ہیں:
پہلی صورت:
انسان کو اپنے جمع شدہ مال میں سے یقینی طور پر معلوم ہو کہ یہ مال حرام کا ہے اور اس نے فلاں حرام ذریعہ سے حاصل کیا ہے۔ اگر وہ مال کے اصل مالک یا اس کے وارثوں کو جانتا ہو تو انہیں یہ مال واپس کرنا ضروری ہے۔ اگر اسےاصل مالک کی معرفت نہ ہو تو اس مال کو رفاہی کاموں میں خرچ کر کے چھٹکارا حاصل کرنا واجب ہے، اگر وہ اس مال کو اپنے پاس رکھ لیتا ہے تو گناہ گار ہوگا۔
ہاں! اگر اصل مالک نے وہ مال حرام کام کے عوض حاصل کیا تھا تو وہ اسے واپس نہیں کیا جائے گا، جیسے زانیہ کی اجرت اور شراب کی قیمت، یہ خریدار اور زانی کو واپس نہیں کی جائے گی بلکہ رفاہی کاموں میں خرچ کر دیا جائے گی۔
دوسری صورت:
اگر انسان کو اپنے مال کے بارے میں یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ کون سا مال حرام کا ہے اور کون سا حلال کا ، لیکن اسے یہ معلوم ہو کہ اس نے کس پر ظلم کر کے اس سے ناحق مال لیا ہے، اس صورت میں ضروری ہے کہ جس سے یہ رقم لی ہے اسے یا اس کے وارثوں کو واپس کر دے، اور اتنی رقم واپس کرے جس کے ادا کرنے سے اسے غالب گمان ہو جائے کہ اس کا ذمہ بری ہو گیا ہے اور ان کا حق مکمل طور پر ادا ہو چکا ہے۔
تیسری صورت:
انسان کو اپنے مال میں حرام مال کی مقدار کا بھی علم نہ ہو اور یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس نے کس سے رشوت یا چوری وغیرہ کی صورت میں حرام مال لیا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے مال سے اتنا مال مسلمانوں کے عام مفادات کے لیے خرچ کرے جس سے اس کی توبہ ممکن ہو سکے، اور وہ رب کے ہاں عذر پیش کر سکے اور اللہ تعالی سے معافی کی امید بھی رکھے۔
لیکن واضح رہے! کہ جب وه یہ مال فقیروں، مسکینوں وغیرہ میں تقسیم کرے گا تو صدقے کی نیت نہیں کرے گا؛ کیوں کہ اللہ تعالی حرام مال قبول نہیں کرتا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا. (صحيح مسلم، الزكاة: 1015).
اے لوگو! بلاشبہ اللہ تعالی پاک ہے، اور پاکیزہ مال ہی قبول کرتا ہے۔
لہذا مال خرچ کرتے وقت یہ نیت کرے گا کہ وہ گناہ سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے اور اپنے مال کو حرام سے پاک کرنا چاہتا ہے۔
والله أعلم بالصواب.