الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر امام مغرب کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد بھول کر سلام پھیر دے، تو وہ کھڑے ہو کر نماز مکمل کرے، پھر سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے۔
سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو اليَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ، أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَدَقَ ذُو اليَدَيْنِ» فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَل َ)صحيح البخاري، الأذان: 714)
رسول اللہ ﷺ (چار رکعت والی نماز میں) دو رکعت پڑھ کر علیحدہ ہو گئے۔ آپ سے ذوالیدین ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں سے پوچھا: ’‘کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے؟‘‘ لوگوں نے ’’ہاں‘‘ میں جواب دیا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے اور دو رکعات مزید پڑھ لیں، پھر سلام پھیرا، اس کے بعد تکبیر کہہ کر سجدے میں چلے گئے۔ یہ سجدے پہلے سجدوں کی طرح تھے یا ان سے کچھ طویل تھے۔
اگر سجدہ سہوسلام پھیرنے سے پہلے بھی کر لے تو کوئی حرج نہیں، لیکن افضل یہ ہے کہ سلام کے بعد کرے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا ہے۔
والله أعلم بالصواب.