الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالیٰ نے ہر معاملے میں عدل و انصاف کو لازم قرار دیا ہے اور ظلم سے منع فرمایا ہے۔ بیویوں کے درمیان اور اولاد کے درمیان عدل و انصاف کرنا واجب ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ، فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا, جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ (سنن أبي داود، النكاح: 2133) (صحیح)
جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور پھر وہ کسی ایک کی طرف مائل ہو گیا تو وہ قیامت کے روز اس کیفیت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا۔
بیویوں کے درمیان رہائش، کھانے پینے، لباس اور رات گزارنے میں عدل و انصاف کرنا واجب ہے، بلکہ ہر اس ظاہری معاملے میں بھی عدل کرنا ضروری ہے جس میں شوہر کے لیے برابری کرنا ممکن ہو۔
سلفِ صالحین کا طرزِ عمل بھی یہی تھا:
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كَانَتْ لِي امْرَأَتَانِ وَكُنْتُ أَعْدِلُ بَيْنَهُمَا حَتَّى فِي الْقُبَل ) المصنف لابن أبي شيبة، جلد 4، ص 37)
میری دو بیویاں تھیں، میں ان کے درمیان بوسہ لینے میں بھی عدل و برابری کرتا تھا۔
حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں:
كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ حَتَّى فِي الطِّيبِ يَتَطَيَّبُ لِهَذِهِ كَمَا يَتَطَيَّبُ لِهَذِهِ (المصنف لابن أبي شيبة، جلد 4، ص 37)
وہ (سلف صالحین) اس بات کو پسند کرتے تھے کہ عورتوں کے درمیان عدل و انصاف کریں، یہاں تک کہ خوشبو لگانے میں بھی؛ ایک کے لیے جس طرح خوشبو لگاتے، دوسری کے لیے بھی اسی طرح خوشبو لگاتے تھے۔
مذکورہ بالا گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیویوں کے درمیان عدل وانصاف کرنا واجب ہے، اس لیے اگر خاوند کسی ایک بیوی اور اس کے بچوں کے ساتھ علاج کے سلسلے میں رہ رہا ہے تو اس دوران دوسری بیوی کے کھانے پینے، رہائش اور لباس وغیرہ کے اخراجات پورے کرنا لازمی ہے۔ جب علاج کی ضرورت ختم ہو جائے گی تو رات گزارنے کے معاملے میں دوسری بیوی کے ساتھ انصاف کرنا لازمی ہو گا، جتنے دن وہ پہلی بیوی کے ساتھ رہائش پذیر تھا اتنے دن وہ دوسری بیوی کے ساتھ بھی گزارے گا۔ اس کی ترتیب وہ آپس میں اتفاق کے ساتھ طے کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوسری بیوی کےساتھ اکٹھے اتنے دن گزار لے جتنے اس نے پہلی بیوی کے ساتھ گزارے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ دوسری بیوی کے پاس دو دن یا تین دن زیاد گزارے، پھر ایک دن پہلی بیوی کے ہاں گزار لے جب دوسری بیوی کے دن پورے ہو جائیں تو باریاں برابری کے ساتھ تقسیم کر لے۔
والله أعلم بالصواب.