سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا بیوہ اپنا نکاح خود کر سکتی ہے؟
  • 7055
  • تاریخ اشاعت : 2026-07-28
  • مشاہدات : 12

سوال

کیا بیوہ عورت ولی کے بغیر اپنا نکاح خود کر سکتی ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام میں کوئی بھی مسلمان عورت اپنے نکاح کا معاملہ از خود طے نہیں کر سکتی خواہ وہ بیوہ ہی کیوں نہ ہو، بلکہ اس کے نکاح کا معاملہ اس کے ولی کی وساطت ہی سے انجام پائے گا۔ احادیث میں اس امر کی صراحت ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ 

سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا نِكَاحَ إلا بِوَليٍّ. (سنن أبي داود، النكاح:2085، سنن ترمذي، النكاح: 1101، سنن ابن ماجه، النكاح: 1881) (صحیح).

ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

دوسری حدیث میں سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أيُّما امرأةٍ نكَحَتْ بغيرِ إذن مَوَاليها فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ. (سنن أبي داود، النكاح: 2083، سنن ترمذي، النكاح: 1102) (صحيح).

جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے گی اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا (سنن ابن ماجه، النكاح: 1882)

کوئی عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرے، نہ عورت خود اپنا نکاح کرے۔ بدکار عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے۔

اس حدیث کے پیش نظر ولایت کے لئے مرد کو ضروری قرار دیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ باپ کے بجائے ماں ولی نہیں بن سکتی اور نہ کوئی لڑکی از خود اپنا نکاح کر سکتی ہے۔ اگر باپ نہیں ہے تو چچا یا بھائی وغیرہ ولی بنے گا، اگر کوئی بھی نہیں ہے تو حاکم وقت یا قاضی اس کا ولی ہو گا۔ بہر حال اسلام کی تعلیمات میں بڑا توازن ہے کہ جن والدین نے لڑکی کو پالا پوسا، اس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا ، وہ نکاح میں بنیادی کردار ادا کرنے کے حقدار ہیں، ان کی رضا مندی کے بغیر لڑکی کی شادی ناجائز ہے۔ دوسری طرف والدین کو لڑکی پر جبر کرنے اور اس کی رضا مندی حاصل کئے بغیر اس کی شادی کرنے سے منع کیا گیا ہے، جن روایات میں بیوہ کو خود مختار کہا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ہونے والے خاوند کا انتخاب کرنے میں خود مختار ہے، اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ وہ اپنا نکاح کرنے میں خود مختار ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے