الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قتادہ رحمہ اللہ نے فرمايا:
خَلَقَ هَذِهِ النُّجُومَ لِثَلاَثٍ: جَعَلَهَا زِينَةً لِلسَّمَاءِ، وَرُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ، وَعَلاَمَاتٍ يُهْتَدَى بِهَا، فَمَنْ تَأَوَّلَ فِيهَا بِغَيْرِ ذَلِكَ أَخْطَأَ، وَأَضَاعَ نَصِيبَهُ، وَتَكَلَّفَ مَا لاَ عِلْمَ لَهُ بِهِ (صحيح البخاري: باب في النجوم)
اللہ تعالی نے ستاروں کو تین مقاصد کیلیے پیدا فرمایا ہے: آسمان کی زینت، شیاطین کو مارنے کیلیے اور رہنمائی حاصل کرنے کیلیے بطور علامات، لہذا اگر کوئی شخص تاروں کا کوئی اور مقصد بیان کرتا ہے تو وہ غلطی پہ ہے اور اپنے وقت کو ضائع کر رہا ہے اور وہ ایسی چیز کے بارے میں تکلف کر رہا ہے جس کا اسے علم نہیں ہے۔
ستاروں کے بارے میں درج ذیل نظریات درست نہیں ہیں:
1. یہ نظریہ رکھنا کہ ستارے بذات خود اثر انداز ہوتے ہیں، یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ ستارے خود ہی حادثات اور نقصانات پیدا کرتے ہیں، تو یہ شرک اکبر ہے؛ کیونکہ جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی خالق اور پیدا کرنے والا ہے تو وہ شخص شرک اکبر کا مرتکب ہے؛ کیونکہ اس شخص نے ایک مخلوق کو جو اللہ تعالی کے حکم کی پابند ہے بذات خود خالق اور مسخر کرنے والا بنا دیا ہے۔
2. ستاروں کو علم غیب جاننے کا ذریعہ بنانا، چنانچہ ستاروں کی نقل و حرکت اور ان کے آنے جانے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اب فلاں فلاں کام رونما ہو گا؛ کیونکہ فلاں فلاں ستارا فلاں منزل میں داخل ہو گیا ہے۔ مثال کے طور کوئی نجومی کہے کہ فلاں شخص کی زندگی کٹھن ہو گی؛ کیونکہ اس کی پیدائش فلاں ستارے کے وقت ہوئی، یا یوں کہے کہ فلاں شخص کی زندگی خوشحال ہو گی؛ کیونکہ اس کی پیدائش فلاں ستارے کے وقت ہوئی۔ تو ایسا شخص درحقیقت ستاروں کو علم غیب جاننے کا وسیلہ اور ذریعہ بنا رہا ہے، حالانکہ علم غیب کا دعوی کرنا کفر ہے، اس سے انسان دائرہ اسلام سے بھی خارج ہو جاتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ) النمل: 65( )آپ کہہ دیں: آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب جاننے والا نہیں۔( یعنی کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں علم غیب جاننے والا نہیں ہے؛ لہذا اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اسے غیب کا علم ہے تو وہ قرآن کو جھٹلا رہا ہے۔
3. ستاروں کو خیر و شر کے رونما ہونے کا سبب قرار دینا، یہ شرک اصغر ہے، مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی چیز رونما ہو تو فورا اسے ستاروں کی جانب منسوب کر دے، یہ بھی واضح رہے کہ ستاروں کی طرف یہ نسبت خیر و شر کے رونما ہونے کے بعد ہی کرے، پہلے نہیں۔ جیسے کوئی شخص ستاروں کو بارش ہونے کا سبب قرار دے؛ کیونکہ حقیقت میں بارش کا ستاروں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مقام حدیبیہ پر بارش کے بعد جو رات آئی، اس میں ہمیں نماز فجر پڑھائی۔ فراغت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرمایا:
هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ (صحیح البخاری، الأذان: 846)
تم جانتے ہو کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’(اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ) میرے بندوں میں سے کچھ میرے ساتھ ایمان لائے اور کچھ نے کفر کی روش اختیار کی۔ جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی وہ تو میرا مومن بندہ اور ستارے کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی وہ میرا منکر اور ستارے پر ایمان لانے والا ہے۔
ستاروں کی گردش سے دینی رہنمائی حاصل کرنا شرعی طور پر مطلوب ہے، اور اگر ستاروں سے ایسے معاملات میں رہنمائی ملے جو لازمی ہیں تو پھر ستاروں کا علم سیکھنا واجب ہو گا؛ جیسےستا روں سے قبلہ کی سمت معلوم کرنا۔
ستاروں کی نقل و حرکت سے دنیاوی امور میں رہنمائی حاصل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ جیسے ستاروں سے جہتوں کا تعین کرنا، مثلاً: جدی ستارے سے قطب شمالی کا پتہ لگائیں؛ کیونکہ جدی شمال کے قریب ہی ہوتا ہے اور شمال کے آس پاس ہی گھومتا ہے، تو یہ جائز ہے، اسی کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:
وَعَلَامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ (النحل: 16)
اور علامتیں )بنائیں) اور ستاروں کے ساتھ وہ راستہ معلوم کرتے ہیں۔
ستاروں سے موسموں کا تعین کرنا، یعنی چاند کی منزلوں کے بارے میں علم حاصل کیا جائے تو اسے بعض سلف صالحین نے مکروہ سمجھا ہے اور دیگر نے اسے مباح کہا ہے، جبکہ صحیح موقف یہ ہے کہ یہ جائز ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں شرک نہیں پایا جاتا تاہم اگر کوئی شخص اس لیے سیکھتا ہے کہ ان کی جانب بارش ہونے اور سردی پڑنے کی نسبت کرے تو یہی وہ علت ہے جس کی وجہ سے اس میں شرک کی آمیزش ہوتی ہے، لہذا اگر صرف ان سے گرمی، سردی، بہار اور خزاں کا وقت معلوم کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مزید کیلیے دیکھیں: القول المفید از شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ الله، جلد 2، ص 5
والله أعلم بالصواب.