الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
مخصوص حالات کے علاوہ لوگوں سے مانگنا اور سوال کرنا حرام ہے۔
سيدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ، حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ القِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ (صحيح البخاري، الزكاة: 1474)
جو شخص مسلسل لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اسکے منہ پر گوشت کی بوٹی تک نہیں ہوگی۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْغِنَى قَالَ خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنْ الذَّهَبِ (سنن أبي داود، الزكاة: 1626، سنن ترمذي، أبواب الزكاة: 650) (صحيح)
جو شخص مانگے، حالانکہ اس کے پاس بقدر کفایت موجود ہو، تو قیامت کے روز وہ آئے گا اور اس کا چہرہ زخمی ہو گا یا اس پر خراشیں ہوں گی یا نوچا ہوا ہو گا۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! غنی ہونے کی کیا مقدار ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پچاس درہم یا اس قیمت کا سونا۔
شدید ضرورت، مجبوری یا ایسے مخصوص حالات میں جنہیں شریعت نے معتبر قرار دیا ہے، سوال کرنا جائز ہے۔
سيدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے (لوگوں کے معاملات میں اصلاح کے لئے) ادائیگی کی ایک ذمہ داری قبول کی اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا کہ آپﷺ سے اس کے لئے کچھ مانگوں تو آپ ﷺ نے فرمایا:
أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ فَمَا سِوَاهُنَّ مِنْ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا (صحيح مسلم، الزكاة: 1044)
ٹھہرو حتیٰ کہ ہمارے پاس صدقہ آ جائے تو ہم وہ تمھیں دے دینے کا حکم دیں۔‘‘ پھرآپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے قبیصہ! تین قسم کے افراد میں سے کسی ایک کے سوا اور کسی کے لئے سوال کرنا جائز نہیں: ایک وہ آدمی جس نے کسی بڑی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کر لی، اس کے لئے اس وقت تک سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے حتیٰ کہ اس کو حاصل کر لے، اس کے بعد (سوال سے) رک جائے، دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آ پڑی ہو جس نے اس کا مال تباہ کردیا ہو، اس کے لئے سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی گزران درست کر لے۔ یا فرمایا: زندگی کی بقا کا سامان کرلے۔اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے کا شکار ہو گیا، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقلمند افراد کھڑے ہو جائیں (اور کہہ دیں) کہ فلاں آدمی فاقہ زدہ ہو گیا ہے تو اس کے لئے بھی مانگنا حلال ہو گیا یہاں تک کہ وہ درست گزران حاصل کرلے۔ یا فرمایا: زندگی باقی رکھنے جتنا حاصل کر لے۔ اے قبیصہ! ان صورتوں کے سوا سوال کرنا حرام ہے اور سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔
آج کل بہت سے بھکاری لوگوں سے مانگتے ہیں، وہ سب در حقیقت محتاج نہیں ہوتے، بلکہ بعض کے بارے میں تو یقین ہوتا ہے کہ وہ مالدار ہیں۔ بعض لوگ چھوٹے بچوں کو استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ لوگوں سے پیسے مانگیں۔ بعض عورتوں نے مانگنے کے لیے چھوٹے بچے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بالکل بھی نہیں کہ حقیقی مستحق لوگ موجود نہیں ہیں، بلکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو واقعی ضرورت مند ہوتے ہیں۔ اسی لیے جو شخص ان میں سے کسی کو مال دینا چاہے تو اسے چاہیے کہ غور کرے اور اندازہ لگائے کہ وہ واقعی محتاج اور ضرورت مند ہے یا نہیں۔
جس کے بارے میں انسان کو معلوم ہو کہ وہ محتاج نہیں ہے، یا غالب گمان یہی ہو، تو اسے نہ دے۔ اور اگر معلوم ہو کہ وہ محتاج ہے، یا غالب گمان یہی ہو، تو اسے دے سکتا ہے۔ جس کے معاملے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکے اس کے بارے میں انسان کو اختیار ہے کہ اسے دے یا نا دے۔
اگر کسی شخص نے ایسے آدمی کو صدقہ دیا جس کو وہ محتاج سمجھتا تھا، تو اسے اجر ملے گا، اگرچہ بعد میں معلوم ہو جائے کہ وہ محتاج نہیں تھا۔ اور اگر دیا ہوا مال زکوٰۃ کا تھا تب بھی اس کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اور اسے دوبارہ زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند نہیں کیا جائے گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
قَالَ رَجُلٌ لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ وَعَلَى سَارِقٍ فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ (صحيح مسلم، الزكاة: 1022)
ایک آدمی نے کہا: میں آج رات ضرور کچھ صدقہ کروں گا تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسےایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ پر صدقہ کیا گیا، اس آدمی نے کہا: اے اللہ تیری حمد! زانیہ پر(صدقہ ہوا) میں ضرور صدقہ کروں گا، پھر وہ صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک مالدار کے ہاتھ میں دے دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے: ایک مال دار پر صدقہ کیا گیا۔ اس نے کہا: اے اللہ تیری حمد! مالدار پر (صدقہ ہوا) میں ضرور کچھ صدقہ کروں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ لوگ صبح کو باتیں کرنے لگے: چور پر صدقہ کیا گیا۔ تو اس نے کہا: اے اللہ! سب حمد تیرے ہی لئے ہے، زانیہ پر، مالدار پر، اور چور پر (صدقہ ہوا)۔اس کو (خواب میں) کہا گیا تمہارا صدقہ قبول ہو چکا، جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس (صدقے) کی وجہ سے زانیہ اپنے زنا سے پاک دامنی اختیار کر لے اور شاید مال دارعبرت پکڑے اور اللہ نے جو اسے دیا ہے (خود) اس میں صدقہ کرے اور شاید اس کی وجہ سے چور اپنی چوری سے باز آ جائے۔
اگر انسان جانتا ہو کہ بھکاری محتاج اور ضرورت مند نہیں ہے، بلکہ اس نے مانگنے اور بھیک مانگنے کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے، تو اسے نہیں دینا چاہیے؛ کیونکہ اسے دینے کی صورت میں وہ اس کی گمراہی میں مدد کر رہا ہوگا، یعنی اسے سوال اور بھیک مانگنے کو بطور پیشہ اختیار کرنے میں مدد دے رہا ہوگا۔ اور باطل کام میں مدد کرنا بھی باطل ہے، اور گناہ کے کام میں مدد کرنا بھی گناہ ہے۔
اللہ تعالیٰ كا فرمان ہے:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدة: 2)
اور نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرواور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
کمانے کی صلاحیت رکھنے والے فقیر کو زکاۃ دینی جائز نہیں ہے؛ کیونکہ کمانے کی صلاحیت ہونے کی وجہ سے اسے فقیر نہیں کہا جا سکتا۔
عبیداللہ بن عدی بن خیار فرماتے ہیں کہ مجھے دو آدمیوں نے بتایا کہ وہ دونوں حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ ﷺ سے اس کا سوال کیا تو آپ ﷺ نے ہمیں اوپر سے نیچے (سر سے پاؤں) تک دیکھا۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ ہم دونوں طاقتور ہیں، تو فرمایا:
إِنَّ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ (سنن أبي داود، الزكاة: 1633) (صحیح)
اگر تم چاہو تو میں تمہیں دیے دیتا ہوں مگر (حقیقت یہ ہے کہ) اس میں غنی اور طاقتور کے کما کھا سکنے والے کا کوئی حصہ نہیں۔
والله أعلم بالصواب.