الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ ایک بے بنیاد اور باطل شبہ ہے کہ مسلمان کعبہ کو پوجتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے منتخب فرما لیتا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (القصص:68)
اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور چن لیتا ہے، ان کے لیے کبھی بھی اختیار نہیں، اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے، اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
چنانچہ اللہ تعالی نے تمام روئے زمین میں سے مکہ مکرمہ کو منتخب فرمایا، اسے اپنے نزدیک سب سے محبوب سرزمین بنایا، اور حکم دیا کہ مسلمان خانۂ کعبہ کو قبلہ بنائیں۔ اسی طرح بیت اللہ کا حج کرنے اور اس کا طواف کرنے کا حکم دیا، تاکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی بندگی کا اظہار ہو، کیونکہ یہ اللہ کی شعائر میں سے ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (الحج:32)
یہ اور جو اللہ کے نام کی چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو یقینا یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔
لہٰذا مسلمانوں کا خانۂ کعبہ کا طواف کرنا اور نماز میں اس کی طرف رخ کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تعظیم ہے۔ وہ یہ سب صرف اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم کی تعمیل میں کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ نظریہ ہے کہ کعبہ اور تمام مخلوقات نہ کسی کو نفع پہنچا سکتی ہیں، نہ نقصان، نہ موت دے سکتی ہیں، نہ زندگی، اور نہ دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔ نفع و نقصان کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور تمام معاملات اسی کے حکم سے انجام پاتے ہیں۔
اسی لیے مسلمان اپنی عبادت صرف اللہ ہی کے لیے کرتے ہیں، اسی سے دعا مانگتے ہیں، اسی سے امید رکھتے ہیں، اسی سے ڈرتے ہیں، اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں، اس کی منع کردہ چیزوں سے بچتے ہیں، اور جن چیزوں کی تعظیم کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کی تعظیم کرتے ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت حاصل کر سکیں۔
اسی طرح حجرِ اسود کی تعظیم کرنا اور طواف کے دوران اسے بوسہ دینا بھی صرف رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی، اللہ سے اجر کی امید اور اس کے فضل کی طلب کے لیے ہے۔ ہرگز اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان حجراسود کی عبادت کرتے ہیں ، یا اس سے نفع حاصل کرنے یا نقصان دور کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔
اسی حقیقت کو امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا، تاکہ اس شبہے کا ہمیشہ کے لیے ازالہ ہو جائے۔ انہوں نے حجراسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا:
إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ (صحيح البخاري، الحج: 1597)
میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے۔ کسی کو نفع یا نقصان پہنچانا تیرے بس میں نہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتاتو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی کہ ہم تمہیں اس لیے بوسہ نہیں دیتے کہ تم سے کسی نفع کی امید رکھتے ہیں یا تمہارے نقصان سے ڈرتے ہیں، جیسا کہ مشرک اپنے بتوں کے ساتھ کرتے تھے، بلکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم صرف ایک پتھر ہو، نہ نفع دے سکتے ہو اور نہ نقصان۔ اگر رسول اللہ ﷺ نے تمہیں بوسہ نہ دیا ہوتا، اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ ﷺ کی پیروی کا حکم نہ دیا ہوتا، تو ہم بھی تمہیں بوسہ نہ دیتے۔ اس لیے اب تمہیں بوسہ دینا ایک مشروع عبادت بن گیا ہے۔ ہم نصاریٰ، مشرکین اور اہلِ بدعت کی طرح نہیں ہیں جو اللہ کی اجازت کے بغیر غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں، بلکہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں، اور وہ بھی اسی طریقے سے جیسے اللہ نے حکم دیا ہے۔
مختصر یہ کہ حجراسود کو بوسہ دینا، خانۂ کعبہ کا طواف کرنا اور نماز میں اس کی طرف رخ کرنا، یہ سب مسلمان صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کا قرب حاصل کرنے اور اس کے حکم کی تعمیل کے لیے کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ نفع و نقصان کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، جبکہ کعبہ، حجرِ اسود اور تمام مخلوقات خود کسی کو نہ نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان۔ یہی عقیدہ توحید ہے۔
والله أعلم بالصواب.