سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نکاح شغار (وٹہ سٹہ) کا حکم
  • 7040
  • تاریخ اشاعت : 2026-09-02
  • مشاہدات : 8

سوال

نکاح شغار کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کی مروجہ صورتیں کون سی ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام میں وٹہ سٹہ (نکاح بدل) کی شادی ناجائز اور حرام ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما  فرماتے ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ (صحیح مسلم،النکاح: 1415)

رسول اللہ صلی اللہ علبہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔

دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ (صحیح مسلم،النکاح: 1415)

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں۔

سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ. زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ: وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي (صحیح مسلم،النکاح: 1416)

رسول اللہ صلی اللہ علبہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ ابن نمیر کی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے: تم اپنی بیٹی کا نکاح میرے ساتھ کر دو اور میں اپنی بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کرتا ہوں۔ اور تم اپنی بہن کا نکاح میرے ساتھ کر دو میں اپنی بہن کا نکاح تمہارے ساتھ کرتا ہوں۔

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ کی روشنی میں شغار کی صورت یہ بنتی  ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی، بہن یا کسی دوسری ایسی عورت کا نکاح، جس کا وہ شرعاً ولی ہے، اس شرط پر کسی شخص سے کر دے کہ دوسرا شخص بھی اپنی بیٹی، بہن یا زیر ولایت کسی دوسری عورت کا نکاح اس کے ساتھ کر دے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے بیٹے یا بھتیجے کا نکاح دوسرے شخص کی بیٹی، بہن یا بھتیجی وغیرہ سے اس شرط پر کرے کہ دوسرا شخص بھی اپنے بیٹے یا بھتیجے کا نکاح اس کی بیٹی، بہن یا بھتیجی وغیرہ سے کر دے۔

اس طرح کے نکاح کی  درج ذیل ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں:

1. نکاح کے وقت رشتہ لینے دینےکی شرط نہ لگائی جائے اور نہ ہی آثار و قرائن شرط جیسے ہوں، دونوں کیلیے الگ الگ حق مہر بھی مقرر کیا جائے، تو یہ صورت وٹہ سٹہ کی نہیں ہے، اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں ، کیونکہ یہ تبادلہ نکاح محض اتفاقی ہے، اس طرح کے نکاح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں متعدد مرتبہ ہوئے ہیں۔

2. نکاح کا معاملہ کرتے وقت ہی رشتہ لینے دینے کی شرط رکھ دی جائے، یا نکاح کے و قت شرط تو نہیں لگائی، البتہ آثار و قرائن ایسے ہیں کہ شرط کی طرح کا معاملہ ہے، اور حق مہر بھی نہ ہو، یعنی ایک لڑکی کے بدلے دوسری لڑکی لے لی جائے۔ یہ بھی شغار ہے اور بالکل حرام اور ناجائز ہے۔

3. نکاح کا معاملہ کرتے وقت ہی رشتہ لینے دینے کی شرط رکھ دی جائے، لیکن  ہر ایک لڑکی کے لیے حق مہر بھی ہو، چاہے حق مہر برابر ہو یا کم و بیش۔     

  اس تیسری صورت کے متعلق  علماء کرام کے مابین  اختلاف ہے کہ یہ وٹہ سٹہ کہلائے گا یا نہیں۔

بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ بھی ممنوعہ صورت ہے؛ کیونکہ صرف یہ شرط لگانا ہی شغار ہونے کیلیے کافی ہے کہ میں اپنی لڑکی کا نکاح  تمہارے ساتھ اس شرط پر  کروں گا کہ تم اپنی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دو۔

اس موقف کے قائلین سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے دلیل لیتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:

نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ. زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ: وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي (صحیح مسلم،النکاح: 1416)

رسول اللہ صلی اللہ علبہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ ابن نمیر کی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے: تم اپنی بیٹی کا نکاح میرے ساتھ کر دو اور میں اپنی بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کرتا ہوں۔ اور تم اپنی بہن کا نکاح میرے ساتھ کر دو میں اپنی بہن کا نکاح تمہارے ساتھ کرتا ہوں۔

مذکورہ حدیث مبارکہ میں یہ نہیں کہا گیا کہ نکاح شغار اسی وقت ہو گا جب اس میں حق مہر نہ ہو، بلکہ مطلق طور پر اسے نکاح شغار قرار دیا گیا ہے، چاہے حق مہر ہو یا ناہو۔ليكن سنن نسائی میں یہ وضاحت موجود ہے  کہ وٹہ سٹہ کی تعریف عبید اللہ بن عمر العمری  کی بات ہے جو کہ اس حدیث کےایک راوی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعریف نہیں فرمائی۔  چنانچہ سنن نسائی میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الشِّغَارِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَالشِّغَارُ: كَانَ الرَّجُلُ يُزَوِّجُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ أُخْتَهُ (سنن نسائی، النکاح: 3338) (صحیح)

رسول اللہﷺ نے شغار سے منع فرمایا۔ حدیث کے راوی عبید اللہ نے وضاحت کرتے ہوئےکہا: شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح دے اس شرط پر کہ دوسرا اسے اپنی بہن کا نکاح دے گا۔

اس رائے کے برعکس جمہور علماء کرام کی رائے یہ ہے  کہ یہ شغار نہیں ہے کیونکہ ہر لڑکی کو حق مہر دیا جا رہا ہے۔ ان کی دلیل سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ حدیث ہے  وہ فرماتے ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ (صحيح البخاري، النكاح: 5112)

رسول اللہ ﷺ نے شغار سے منع فرمایا: اور شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کا نکاح (کسی کے ساتھ) اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ دوسرا شخص بھی اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کرے گا اور ان دونوں کا کوئی حق مہر مقرر نہ ہو۔

لیکن صحیح البخاری میں ہی دوسری جگہ یہ وضاحت موجود ہے کہ شغار کی مذکورہ بالا تعریف نافع رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ نافع رحمہ اللہ نے  سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  سے مذکورہ بالا حدیث بیان کی تو عبید اللہ (جو نافع سے اس حدیث کو بیان کرتے ہیں) نے نافع سے شغار کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: يَنْكِحُ ابْنَةَ الرَّجُلِ وَيُنْكِحُهُ ابْنَتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ وَيَنْكِحُ أُخْتَ الرَّجُلِ وَيُنْكِحُهُ أُخْتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ (کوئی آدمی دوسرے کی بیٹی سے نکاح کرتا ہے اور وہ اس کے نکاح میں اپنی بیٹی دیتا ہے، اس (تبادلے) کے علاوہ اور کوئی حق مہر نہیں ہوتا)۔

مذکورہ کلام سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ احادیث مبارکہ میں بیان کردہ شغار کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کی ہوئی نہیں ہے بلکہ یہ وضاحت حدیث کے راویوں کی طرف سے ہے۔ 

وٹہ سٹہ کی شادی کے مفاسد اور خرابیاں ہوتی ہیں ، چاہے حق مہر ہو یا نا ہو، اس لیے بہتر یہی ہے کہ  نکاح کا یہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ بعض اوقات عورت کی اپنے شریک حیات میں رغبت نہیں ہوتی ، لیکن خاندانی دباؤ میں وہ انکار نہیں کر پاتی۔ شادی کے بعد بہت سے تنازعات جنم لے لیتے ہیں۔ اگر ایک لڑکی کا گھر برباد ہوتا ہے تو دوسری بھی ظلم و ستم کا نشانہ بن جاتی ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے