سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
بغیر کسی شرعی عذر کے نمازوں کو جمع کرنا
  • 7037
  • تاریخ اشاعت : 2026-07-28
  • مشاہدات : 11

سوال

كيا بغیر کسی وجہ کے نمازوں کو جمع کرنا درست ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

الله تعالی نے تمام نمازوں کو اپنے مقررہ وقت پر فرض کیا ہے کسی نماز کو اس کے وقت سے پہلے پڑھنا بغیر کسی دلیل کے جائز نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (النساء: 103)

بے شک نماز ایمان والوں پر ہمیشہ سے ایسا فرض ہے جس کا وقت مقرر کیا ہوا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں تمام نمازوں کے وقت کی ابتداء اور انتہاء وضاحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے،  بغیر کسی شرعی دلیل کے نمازوں کو جمع  کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کی خلاف ورزی ہے، اور جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے خلاف عمل کرے گا اس کا عمل رائیگاں اور باطل ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدّ (صحيح مسلم، الأقضية:1718).

جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں ہے وہ مردود (باطل) ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے