الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نماز اسلام کا دوسرا اہم ترین رکن ہے۔ جس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ روزانہ پانچ مرتبہ نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہےاور اس کے چھوڑنے پر سخت ترین وعیدیں سنائی گئی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وصیت نماز کے بارے میں ہی کی تھی۔ انسان سے روز قیامت سب سے پہلا سوال نماز کے بار ے میں ہو گا۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاة (صحیح مسلم، الإيمان: 82).
یقینا آدمی اور شرک، کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے۔
عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ (سنن ترمذي، الإيمان: 2622) (صحيح).
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نماز کے علاوہ کسی عمل کے نہ کرنے پر کفر کا فتوی نہیں لگاتے تھے۔
عبادات میں نماز وہ واحد عمل ہے جس کو کسی بھی حالت میں چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ چاہے انسان کے ہاتھ ، پاؤں یا پورا جسم بھی حرکت نہ کرتا ہو ، نماز پڑھنا لازم ہے۔
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بواسیر تھی، میں نے نبی ﷺ سے نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا، توآپ نے فرمایا:
صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ (صحیح البخاری، تقصیر الصلاۃ: 1117)
کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر ادا کرو، اگر اس کی بھی ہمت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھو۔
جان بوجھ کر سستی کرتے ہوئے نمازیں چھوڑنا انتہائی سنگین جرم ہے۔ یہ زنا، چوری وغیرہ تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے۔ ایسے شخص پر واجب ہے کہ وہ اس جرم سے فورا توبہ کرے، اپنے کیے پر پشیمان ہو اور نماز پابندی کے ساتھ ادا کرے اور عزم کرے کہ آئندہ کوئی بھی نماز بھی ترک نہیں کرے گا۔
جو نمازیں اس شخص نے چھوڑ دی ہیں، ان کی قضائی نہیں ہے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالی سے سچی اور پکی توبہ کرے اور کثرت کے ساتھ استغفار کرے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى (طه: 82)
اور بے شک میں یقینا اس کو بہت بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائےاور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر چلے۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ، كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَه (سنن ابن ماجه، الزهد: 4250) (صحيح).
گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہو جاتا ہے جیسا اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں۔
والله أعلم بالصواب.