سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اگر سسر بہو پر بری نظر ڈالے تو کیا بیٹے کا نکاح ختم ہو جائے گا؟
  • 7026
  • تاریخ اشاعت : 2026-07-28
  • مشاہدات : 39

سوال

اگر سسر بہو پر بری نظر ڈالے، یا برا کرنے کی کوشش کرے، تو کیا اس صورت میں اس کے بیٹے کا نکاح فا سد ہو جاتا ہے ؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت میں زنا کبیرہ گناہ اور سنگین ترین جرم ہے، بلکہ اسلام میں کسی  بھی جرم پر اتنی سخت سزا مقرر نہیں کی گئی جتنی سزا زنا کرنے پر رکھی گئی ہے۔ اگر غیر شادی شدہ شخص زنا کرے تو اسے 100 کوڑے مارنے کا حکم ہے، اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔ اگر شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرے تو اسے سنگسار کیا جائے گا۔

ارشاد باری تعالی ہے:

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (النور: 2)

جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمہیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔

سیدنا ابوہریرہ اور زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی  کے غیرشادی شدہ بیٹے نے ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کیا تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا:

عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا (صحيح البخاري، الشروط: 2724).

تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی کی جائے گی، اے انیس  تو کل اس آدمی کی بیوی کی طرف جانا اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دینا۔

سسر  پر اس کی بہو ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ اس کا بہو پر بری نظر ڈالنا یا برا کرنے کی کوشش کرنا گناہ اور جرم ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ خدا  کا خوف کرے اور توبہ و استغفار کرے، کہیں اللہ تعالی کی طرف سے اس کی پکڑ نہ ہو جائے۔

سسر کے بہو پر بری نظر ڈالنے یا برا کرنے کی کوشش سے وہ  اپنے خاوند (سسر کے بیٹے)  پر حرام نہیں ہو گی، بلکہ اس کی بیوی ہی رہے گی، کیونکہ حرمت کی دلیل موجود نہیں ہے۔ بیٹے کے محرم رشتے داروں میں ایسی عورت نہیں ہے جس سے اس کے باپ نے زنا کیا ہو، کیونکہ زنا کے احکامات نکاح والے نہیں ہیں۔

ہاں! اگر باپ نے کسی عورت سے شرعی نکاح کیا ہو، تو وہ عورت ا س کے بیٹے پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائے گی۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَلا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتاً وَسَاءَ سَبِيلاً (النساء:22)

خاوند پر بھی لازمی ہے کہ وہ احتیاط کرتے ہوئے اپنی بیوی کے ساتھ الگ گھر میں رہائش اختیار کرے، تاکہ آئندہ  اس طرح کی صورت حال پیدا ہونے  سے بچا جا سکے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے