سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اذان کے بعد سپیکر میں ہی درود شریف اور دعا پڑھنا
  • 7025
  • تاریخ اشاعت : 2026-10-12
  • مشاہدات : 45

سوال

کیا اذان کے بعد سپیکر میں ہی درود شریف پڑھنا اور دعا پڑھنا جائز ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اذان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور مسنون دعا  پڑھنی چاہیے ۔

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں  کہ میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے:

إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ ( صحيح مسلم، الصلاة: 384)

جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے (میری) شفاعت واجب ہو گئی۔

اس دعا کو  بلند آواز سے پڑھنا رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں معروف نہیں تھا۔ جب مؤذن درود شريف اور  اس دعا کو اذان کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر بلند آواز سے پڑھتا ہے تو گویا وہ اسے اذان ہی کا حصہ بنا دیتا ہے۔ لہذا  اذان کے بعد درود شریف اور دعا کو بلند آواز سے پڑھنا جائز نہیں ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے