سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اگر تہجد کی نماز چھوٹ جائے تو اس کی قضائی کب دی جائے گی؟
  • 7023
  • تاریخ اشاعت : 2026-07-28
  • مشاہدات : 39

سوال

اگر تہجد کی نماز چھوٹ جائے اور سورج نکل آئے تو اس کو اداکرنے کا کیا طریقہ ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر انسان کی تہجد کی نماز رہ جائے تو افضل اور بہتر یہ ہے کہ دن میں  سورج طلوع ہونے کے بعد اور ظہر سے پہلے پہلے اس کی قضائی دے دے، لیکن قضائی دینا لازمی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کا معمول یہ تھا کہ اگر  آپ کی رات کی نماز کسی وجہ سے رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں اس کی قضا فرما لیتے تھے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہی:

كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ، أَوْ مَرِضَ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 746)

رسول اللہ ﷺ جب کوئی کام کرتے تو اس کو برقرار رکھتے اور جب آپﷺ رات سوتے رہ جاتے یا بیمار ہو جاتے تو آپﷺ دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے) کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو (کبھی) نہیں دیکھا کہ آپﷺ نے ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو اور نہ (کبھی) آپﷺ نے رمضان کے سوا مسلسل مہینے بھر کے روزے رکھے۔

عام طور پر نبی کریم ﷺ رات میں گیارہ رکعت پڑھتے تھے؛ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور آخر میں ایک رکعت وتر ادا کرتے تھے۔ لیکن اگر بیماری یا نیند کی وجہ سے یہ نماز رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں اس کی قضا فرماتے اور ایک رکعت کا اضافہ کر کے بارہ رکعت پڑھتے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے۔

لہٰذا اگر انسان  کی عادت رات میں وتر سمیت گیارہ رکعت  پڑھنے کی ہے، تو بہتر یہ ہے کہ دن میں بارہ رکعت ادا کرے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کیا کرتے تھے۔ ہر دو رکعت پر سلام پھیرے۔

اور اگر اس کا معمول رات میں سات رکعت پڑھنے کا ہو تو دن میں آٹھ رکعت  دو دو رکعتیں کر کے پڑھے۔ اسی طرح اگر  رات میں تین رکعت پڑھنے کی عادت ہے تو دن  میں دو دو رکعتیں کر کے چار رکعتیں ادا کرے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے