سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
یونین کونسل کا نوٹس نہیں آیا، کیا طلاق ہو گئی؟
  • 7022
  • تاریخ اشاعت : 2026-08-01
  • مشاہدات : 10

سوال

میرے شوہر نے 28 جون 2025 کو غصے کی حالت میں مجھے ایک مجلس میں چھ بار طلاق کہا۔ ابھی تک یونین کونسل کا نوٹس نہیں آیا۔ کیا مجھے طلاق ہو گئی؟ عدت کب سے شروع ہو گی؟ کیا میں ابھی بھی اپنے خاوند کے نکاح میں ہوں یا نہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کو چاہیے کہ وہ شادی  کرنے سے پہلے نکاح و طلاق کے مسائل سے بخوبی آگاہی حاصل کرے، تا کہ اسے نکاح و طلاق کی شروط ، آداب، خاوند اور بیوی کے حقوق و فرائض، طلاق دینے کا شرعی طریقہ اور اس سے متعلقہ  تمام احکامات کا علم ہو سکے اور وہ اپنی ازدواجی زندگی شرعی احکامات کے مطابق گزار سکے۔

قرآن وسنت کی روشنی میں اکٹھی تین طلاقیں دینا حرام ہے، ایسا کرنے والے کو اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگنا چاہیے۔

 لیکن اگر کوئی انسان اکٹھی تین طلاقیں دے دے تو وہ ایک ہی شمار ہو گی، لہذا اگر آپ کے خاوند نے آپ کو ایک ہی مجلس میں اکٹھی چھ مرتبہ طلاق دی ہے تو  وہ ایک ہی طلاق شمار ہو گی  اور خاوند کو عدت کے دوران آپ سے رجوع کا حق حاصل ہے؛ کیوں کہ نکاح کے مضبوط بندھن کو شریعت نے یک لخت ختم نہیں کیا بلکہ تین طلاق کا سلسلہ اور پھر ان میں سے پہلی دو کے بعد سوچنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ گھر ٹوٹنے سے بچ جائے۔

عدت گزرنے کے بعد نئے سرے سے نکاح ہو سکتا ہے، جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة  (صحيح مسلم، الطلاق: 1472)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک  (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلاق کےناجائز طریقے کی روک تھام کے لیے ایک سیاسی فیصلہ کیا تھا کہ جس نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں  ہم اسے نافذ کر دیں گے، یہ وقتی سیاسی فیصلہ تھا،  شرعی نہیں تھا۔ (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: 2/105).

یاد رہے! وہ عورت جسے روٹین سے ماہواری آتی ہے اس کی عدت کی مدت تین حیض ہے، یعنی طلاق کے بعد اگر عورت کو تین مرتبہ حیض آ جائے اور وہ تیسرے حیض سے پاک ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ  (البقرة: 228).

اور وہ عورتیں جنہیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں۔

وہ عورت جس کو ماہواری آنا بند ہو گئی ہے، یا عمر کم ہونے کی وجہ سے ابھی آنا شروع ہی نہیں ہوئی، ان کی عدت تین قمری مہینے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ  (الطلاق: 4)

اور وہ عورتیں جوتمہاری عورتوں میں سے حیض سے نا امید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض نہیں آیا۔

اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ  (الطلاق: 4)

اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔

اگر آپ کے خاوند نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کوئی طلاق نہیں دی، تو آپ کو ایک طلاق واقع ہو چکی ہے۔ واضح رہے کہ طلاق کا واقع ہونے کا یونین کونسل کے نوٹس سے کوئی تعلق نہیں ہے، جب بھی خاوند طلاق دے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

عورت کی عدت  خاوند کے طلاق دینے کے فورا بعد شروع ہو جاتی ہے، عورت کی عدت کی تفصیل وضاحت سے بیان کی جا چکی ہے۔

اگر آپ کے خاوند نے طلاق کے بعد عدت کے دوران آپ سے رجوع نہیں کیا تو آپ اس سے بالکل الگ ہو چکی ہیں ، اس کی بیوی نہیں ہیں۔چونکہ آپ کو ایک طلاق واقع ہوئی ہے اس لیے آپ کا خاوند آپ سے نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے، جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

اگر آپ کا خاوند آپ سے دوبارہ نکاح کرتا ہے تو اس کے پاس صرف دو طلاقیں دینے کا اختیار رہ جائے گا (اس میں رجعی طلاق ایک ہی ہوگی) کیونکہ وہ ایک طلاق پہلے ہی دے چکا ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے