الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قیام، رکوع اور سجدہ نماز کے ارکان میں سے ہیں، ان ارکان کو شرعی حکم کے مطابق ادا کرنا لازمی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے ان میں سے کسی رکن کو نہیں ادا کر سکتا، تو اس رکن کی ادائیگی اس پر ساقط ہو جائے گی ، لیکن جو رکن وہ شرعی طریقے سے ادا کرسکتا ہو اسے ادا کرنا ضروری ہے۔ رخصت صرف اس رکن میں ہے جس کو ادا کرنے کی استطاعت نہیں ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (البقرة:238)
سب نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی او راللہ کے لیے فرماں بردار ہو کر کھڑے رہو۔
سيدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بواسیر تھی تو میں نے نبی ﷺ سے نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا، آپ نے فرمایا:
صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ (صحیح البخاری، تقصیر الصلاۃ: 1117)
کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر ادا کرو، اگر اس کی بھی ہمت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھو۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ، حَيْثُ تَوَجَّهَتْ فَإِذَا أَرَادَ الفَرِيضَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ (صحیح البخاری، الصلاۃ: 400)
رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھ لیتے تھے، وہ جس طرف بھی لے جا رہی ہوتی۔ لیکن جب آپ فرض نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اترتے اور قبلہ رو ہو کر نماز پڑھتے۔
بلکہ جب کسی شخص کے لیے کسی عمل کو انجام دینا ممکن ہو، مگر اس میں اسے ضرر لاحق ہوتا ہو، تو شریعت نے آسانی کرتے ہوئے بہت سے مقامات پر اسے ایسے شخص کے حکم میں رکھا ہے جو اس عمل کی قدرت ہی نہیں رکھتا۔
ارشاد باری تعالی ہے:
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ العُسرَ (البقرۃ: 185)
اللہ تعالی تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہےاور تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔
لہذا اگر کوئی شخص بیمار ہو، وہ اپنی گاڑی سے اترنے میں شدید مشقت محسوس کرتا ہو، مثلاً معذور یا وہیل چیئر کا محتاج شخص، اس کے لیے فرض نماز گاڑی ہی میں ادا کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اسے گاڑی سے اترنے اور پھر دوبارہ اس میں سوار ہونے پر شدید اور ناقابل برداشت مشقت لاحق ہوتی ہو ۔البتہ اس پر قبلہ رخ ہونا لازم ہے۔ اگر گاڑی کے اندر رہتے ہوئے قبلہ رخ ہونا ممکن نہ ہو، تو جہاں تک ممکن ہو گاڑی کو قبلے کی طرف موڑ لے، پھر جس قدر استطاعت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرے۔
والله أعلم بالصواب.