سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
’’میری طرف سے فارغ ہے ‘‘، کیا اس جملے سے طلاق ہو جائے گی؟
  • 6983
  • تاریخ اشاعت : 2026-08-01
  • مشاہدات : 12

سوال

اگر کوئی شخص چار لوگوں کی موجودگی میں بوجہ ناراضی اپنی بیوی کو یہ کہتا ہے کہ یہ میری طرف سے فارغ ہے فارغ ہے فارغ ہے اور یہ میرے گھر سے چلی جائے، اب اس کی میرے دل میں کوئی جگہ نہیں ہے ،تو کیا طلاق واقع ہوگئی ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جن لفظوں کے ساتھ بیوی کو طلاق دی جاسکتی ہے وہ دو طرح کے ہیں:

1. صریح لفظ: جو طلاق کے معنی میں بالکل واضح ہو جس کا طلاق کے علاوہ کوئی اور مطلب نہیں ہو سکتا۔

2. کنایہ:  اس سے مراد ایسا لفظ ہے جو طلاق دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور طلاق کے علاوہ کسی اور معنی کو ادا  کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

انسان بیوی کو طلاق دینے کے لیے بعض اوقات بالکل واضح لفظ استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جو طلاق کا معنی بھی دیتا ہے اور اس لفظ کا مطلب طلاق کے علاوہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔

سوال میں مذکور شخص نے اپنی بیوی کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ہیں کہ (یہ میری طرف سے فارغ ہے، فارغ ہے، فارغ ہے اور یہ میرے گھر سے چلی جائے، اب اس کی میرے دل میں کوئی جگہ نہیں ہے) کنایہ ہیں۔ اگر ان ا لفاظ کو بولتے وقت اس کی نیت طلاق دینے کی تھی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر نیت نہیں تھی تو طلاق واقع  نہیں ہوئی۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے