سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
خلع کی عدت
  • 6982
  • تاریخ اشاعت : 2026-08-01
  • مشاہدات : 13

سوال

میں انسہ وسیم نے شوہر سے خلع لیا ہے، کیونکہ وہ حق زوجیت ادا کرنے پر قادر نہ تھے، میری عدت کیا ہوگی؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خلع  لینے والی عورت اگر حاملہ نہیں ہے تو اس پر لازمی ہے کہ وہ ایک حیض عدت گزارے، جیسا کہ 

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی نے اپنے خاوند سے خلع لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک حیض عدت گزارے۔ (سنن أبي داود، الطلاق: 2229، سنن ترمذي، الطلاق واللعان: 1185) (صحيح).

اگر وہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

 وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ  (الطلاق: 4)

اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے