الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی عبادت، افعال اور اسماء وصفات میں کسی کو شریک بنانا شرک ہے۔
عبادت میں شرک:
کسی ولی یا بزرگ کو مصیبت کے وقت پکارنا، جیسے یا علی مدد، یا غوث پاک مدد وغیرہ کہنا شرک ہے؛ کیوں کہ مصیبت زدوں کی مدد کرنے والا صرف اللہ ہے۔ کسی پیر یا ولی کے نام پر جانور ذبح کرنا بھی شرک ہے، کسی بزرگ کےدربار پرجا کر اس کی عبادت بجالاتے ہوئے رکوع وسجود کرنا شرک ہے؛ کیوں کہ ذبح کرنا اور رکوع وسجود کرنا عبادت ہے، اور عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالی ہے، اسی طرح کسی بھی عبادت کو غیراللہ کے لیے کرنا شرک ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَوَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الأنعام: 17).
اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
اور فرمایا:
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ (الأنعام:162-163).
کہہ دو! بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کےلیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ.(صحيح مسلم، الأضاحي: 1978).
ایسے شخص پراللہ تعالی کی لعنت ہے جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتا ہے۔
افعال میں شرک:
یہ نظریہ رکھنا کہ فلاں پیر صاحب آندھی باندھ دیتے ہیں، شرک ہے، کسی بزرگ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ اولاد دیتا ہے، یا رزق دینے والا ہے شرک ہے کیونکہ اولاد عطا کرنے والا رزق دینے والا صرف اور صرف اللہ ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (الشورى: 49-50).
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہےاور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے یا انہیں ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہےاور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، یقنیا وہ سب کچھ جاننے والا ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
اور فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ (الذاریات: 58).
بے شک اللہ ہی بے حد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے۔
اسماء وصفات میں شرک:
اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، جیسے: الرحمن، الکریم، السمیع، اللطیف وغیرہ، ہر نام میں صفتی معنی بھی پائے جاتے ہیں، جیسے: الرحمن اللہ تعالی کی صفت رحمت پر دلالت کرتا ہے، الغفور اللہ تعالی کانام ہے، اس میں اللہ تعالی کی صفت ’’بخشنے والا‘‘ کا ذکر ہے، اسی طرح اللہ تعالی کا ہر نام صفت پر بھی مشتمل ہوتا ہے۔
جو نام اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہیں ویسا کسی کا نام رکھنا شرک ہے، ایسے ہی جو صفت صرف اللہ تعالی کی ہے اگر کوئی انسان ویسی ہی صفت کسی مخلوق میں ثابت کرے تو یہ بھی شرک ہے۔ جیسے: کسی نیک آدمی کے بارے میں یہ نظریہ رکھنا کہ وہ غیب جانتا ہے، شرک ہے۔ فلاں پیر صاحب ہر وقت ہر کسی کی سنتے ہیں، شرک ہے۔ کسی کو گنج بخش، داتا، غریب نواز کہنا شرک ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ . (النمل: 65).
کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔
اور فرمایا:
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ. (الشوری: 11).
اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
جس آیت کا آپ نے حوالہ دیا ہے اس کی وضاحت درج ذیل ہے:
أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا (الفرقان:43)
کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش ہی کو بنا لیا، تو کیا تو اس کا ذمہ دار ہو گا۔
اس آیت کی تفسیر میں شیخ عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ رقمطرا ز ہیں:
یہ فطری بات ہے کہ کفار کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق کا نشانہ بنانا اور اپنے باطل معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سخت تکلیف دہ تھا، کیونکہ آپ کی شدید خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر تعجب دلاتے ہوئے فرمایا : ’’کیا تو نے وہ شخص دیکھا جس نے اپنی خواہش ہی اپنا معبود بنا لیا؟‘‘ ابوحیان نے فرمایا : ’’وَالْمَعْنٰي أَنَّهُ لَمْ يَتَّخِذْ إِلٰهًا إِلَّا هَوَاهُ‘‘ ’’معنی یہ ہے کہ اس نے اپنی خواہش کے سوا کسی کو معبود بنایا ہی نہیں۔‘‘ زمخشری نے فرمایا : ’’جو شخص اپنے دین میں خواہش ہی کا حکم مانے، کوئی بھی کام کرنے یا نہ کرنے میں اسی کے پیچھے چلے تو یہ شخص اپنی خواہش کی عبادت کرنے والا اور اسے اپنا معبود بنانے والا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ شخص جو اپنی خواہش کے سوا کسی اور کو اپنا معبود ہی نہیں سمجھتا آپ اسے ہدایت کی طرف کیسے لا سکتے ہیں؟ کیا آپ اس کے ذمہ دار ہیں، یا اسے اسلام لانے پر مجبور کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ تمھیں ہر حال میں اسلام قبول کرنا ہو گا، چاہو یا نہ چاہو، جب کہ دین میں (قبولِ اسلام کے معاملہ میں) زبردستی ہے ہی نہیں، فرمایا : [ البقرۃ : ۲۵۶ ] ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں۔‘‘ اور فرمایا : [قٓ : ۴۵ ] ’’اور تو ان پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں۔‘‘ اور فرمایا : [ الغاشیۃ : ۲۲ ] ’’تو ہر گز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔‘‘ (الکشاف) اور دیکھیے سورۂ جاثیہ (۲۳) اور فاطر (۸)۔
کوئی شخص اگر نفس کی خواہش پر کوئی گناہ کر لے اور اپنے آپ کو اللہ کا گناہ گار سمجھے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے اپنی خواہش کو اپنا الٰہ بنا لیا۔ ورنہ ہر گناہ شرک ہو گا اور ہر گناہ گار مشرک، جبکہ ایسا نہیں ہے، جیسا کہ فرمایا : [ النساء : ۴۸ ] ’’بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے۔‘‘ طبری نے اپنی معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا : ’’مراد اس سے کافر ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور کسی دلیل کے بجائے اپنی خواہش ہی کو اپنا معبود بنا لے۔‘‘
اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْهِ وَكِيْلًا : یعنی آپ اس کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہیں، آپ کا کام صرف دعوت ہے، جیسا کہ فرمایا : [ الرعد : ۴۰ ] ’’تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔‘‘ اور دیکھیے سورۂ شوریٰ (۴۸)۔ (تفسیر القرآن الکریم از عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ)
والله أعلم بالصواب.