سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا پوتا وارث ہو گا؟
  • 6965
  • تاریخ اشاعت : 2026-09-22
  • مشاہدات : 134

سوال

کیا پوتے کا حصہ دادا کی پراپرٹی میں بنتا ہے؟ اگر نہیں تو اس یتیم پوتے کا کیا بنےگا؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرعی حکم کے مطابق اگر مرنے والے کا اپنا سگا بیٹا موجود ہو تو پوتا وارث نہیں ہوتا۔

سیدنا ابن عباس رضی  الله عنهما بيان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَر (صحيح البخاري، الفرائض: 6732).

تم جن ورثا کا حصہ متعین ہے انہیں ان کا حصہ پورا پورا ادا کر دو، پھر جو مال بچ جائے اسے میت کے قریبی ترین رشتےدار کو دے دو۔

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

وَلايَرِثُ وَلَدُ الِابْنِ مَعَ الِابْنِ. (صحيح البخاري: بَابُ مِيرَاثِ ابْنِ الِابْنِ إِذَا لَمْ يَكُنِ ابْنٌ (8/151).

بیٹے کی موجودگی میں پوتا وارث نہیں ہو گا۔

1. اگر دادا صاحب ثروت ہے، اس کے سگے بیٹوں کو مال کی زیادہ ضرورت نہیں ہے، اور پوتا فقیر اور محتاج ہے تو دادے کو چاہیے کہ وہ اپنے پوتے کے لیے اپنے  مال سے ایک تہائی یا اس سے کم  کی وصیت کردے۔

سیدنا خالد بن عبید السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَاكُمْ ثُلُثَ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ زِيَادَةً فِي أَعْمَالِكُمْ. (صحيح الجامع: 1721).

بلاشبہ اللہ تعالی نے تمہیں موت کے وقت ایک تہائی مال تک اختیار دیا ہے تاکہ تمہارے اعمال میں اضافہ ہو سکے۔

والله أعلم بالصواب.

 

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے