الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بغیر کسی معقول وجہ کے عورت کا خاوند سے خلع کا مطالبہ کرنا حرام ہے۔
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا، فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ, فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّة (سنن أبي داود، الطلاق: 2226) )صحيح)
جو عورت بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق مانگتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
اگر کوئی معقول وجہ ہو، جیسے مرد اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے سے عاجز ہے، یا اس پر ظلم کرتا ہے یا عورت مرد کو بدصورتی کی وجہ سے ناپسند کرتی ہے یا خاوند فاسق وفاجر ہو، جو باربار نصیحت کرنے کے باوجود نہیں سمجھتا، تو عورت عدالت کے ذریعے خلع لے سکتی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اللہ کے رسول! مجھے ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں البتہ میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْبَلِ الحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً (صحيح البخاري، الطلاق: 5273)
کیا تم ان کا دیا ہوا باغ واپس کر سکتی ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے (حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: ”باغ قبول کر کے اس کو آزاد کردو۔
لہذا اگر مذکورہ صورت حال میں زید کی بیوی کسی معقول وجہ کی بنا پر خلع کا مطالبہ کرر ہی ہے، اور جو نوٹسز عدالت کی طرف سےبھیجے گئے اس کی اطلاع زید تک پہنچی تھی، لیکن اس نے کیس کی پیروی نہیں کی تو عدالت نکاح کو ختم کر سکتی ہے۔ اب اگر زید اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہے تو دوبارہ نکاح کر سکتا ہے، جس میں ولی، دوگواہ، حق مہر اور بیوی کی رضا مندی ضروری ہے۔
اگر وہ زید سے نکاح نہیں کرنا چاہتی تو ایک حیض عدت گزرنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔
والله أعلم بالصواب.