سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
پیسے دے کر زنا کرنا
  • 6961
  • تاریخ اشاعت : 2026-06-16
  • مشاہدات : 41

سوال

کیا آج کل پیسے دے کر زنا کرنا جائز ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت میں زنا کبیرہ گناہ اور سنگین ترین جرم ہے، بلکہ اسلام میں کسی  بھی جرم پر اتنی سخت سزا مقرر نہیں کی گئی جتنی سزا زنا کرنے پر رکھی گئی ہے۔ اگر غیر شادی شدہ شخص زنا کرے تو اسے 100 کوڑے مارنے کا حکم ہے، اور  ایک  سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے گا۔ اگر شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرے تو اسے سنگسار کیا جائے گا۔

ارشاد باری تعالی ہے:

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ. (النور: 2)

جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمہیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔

سیدنا ابوہریرہ اور زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی  کے غیرشادی شدہ بیٹے نے ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کیا تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا:

عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا. (صحيح البخاري، الشروط: 2724).

تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی کی جائے گی، اے انیس  تو کل اس آدمی کی بیوی کی طرف جانا اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دینا۔

زنا ہر صورت  حرام ہے، پیسے دے کر یا بغیر پیسے دیے۔ اللہ تعالی نے جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے نکاح کو حلال کیا ہے۔  انسان کو چاہیے کہ وہ حلال طریقے سے اپنی جنسی خواہش پوری کرے اور شادی کرے۔ اگر شادی کی فضول و غیر ضروری رسموں اور فضول خرچی سے بچا جائے تو  شادی کا خرچہ اتنا زیادہ اور مشکل نہیں ہے جتنا آج کل سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر شادی کے اخراجات کی استطاعت نہ ہو تو کوشش کر کے حلال مال کمائے تاکہ شادی کر سکے اور بیوی کے اخراجات اٹھا سکے۔ جب تک اس کا انتظام نہ ہو گناہ سے بچنے کے لیے کثرت سے روزے رکھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس سے شہوت قابو میں رہتی ہے تو یہ حتمی اور یقینی ہے، اس لیے جو شخص بھی روزوں کا اہتمام کرے گا اس کی شہوت قابو میں رہے گی۔ جب تک انسان کے پاس شادی کے اخراجات کا انتظام نہیں ہوتا روزے رکھے، خود کو بری صحبت اور موبائل کے فتنوں سے بچائے او راللہ تعالی سے دعا کرے۔ شہوت ان شاء اللہ قابو میں رہے گی۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں  کہ ہم نوجوان رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ رہا کرتے تھے، ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا:

يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ (صحيح البخاري، النكاح: 5066)

نوجوانو! جو کوئی تم میں سے نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرلے کیونکہ نکاح کا عمل آنکھ کو بہت زیادہ نیچے رکھنے والا اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والا ہے۔ اور جو کوئی اس کی طاقت نہیں رکھتا، اسے روزے رکھنے چاہییں کیونکہ یہ اس کے لیے شہوت توڑنے والے ہیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے