سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کسی لڑکی سے زنا کرنے کے بعد نکاح کرنا
  • 6959
  • تاریخ اشاعت : 2026-06-29
  • مشاہدات : 35

سوال

کسی کنواری لڑکی سے زنا کرنے کے بعد نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں، اگر چہ وہ حاملہ نہ ہوئی ہو ، کیا وہ دونوں نکاح کرسکتے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت میں زنا کبیرہ گناہ اور سنگین ترین جرم ہے، بلکہ اسلام میں کسی  بھی جرم پر اتنی سخت سزا مقرر نہیں کی گئی جتنی سزا زنا کرنے پر رکھی گئی ہے۔ اگر غیر شادی شدہ شخص زنا کرے تو اسے 100 کوڑے مارنے کا حکم ہے، اور ایک  سال کے لیےجلا وطن کر دیا جائے گا۔ اگر شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرے تو اسے سنگسار کیا جائے گا۔

ارشاد باری تعالی ہے:

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ. (النور: 2).

جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمہیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔

سیدنا ابوہریرہ اور زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی  کے غیرشادی شدہ بیٹے نے ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کیا تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا:

عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا. (صحيح البخاري، الشروط: 2724).

کہ تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کی جلا وطنی کی جائے گی، اے انیس  تو کل اس آدمی کی بیوی کی طرف جانا اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دینا۔

زانيہ عورت يا زانى مرد سے اس وقت تک نكاح صحيح نہيں ہے جب تك وہ سچی اور پکی توبہ نہ كر لے۔ اپنے جرم پر نادم ہو اور آئندہ ایسا جرم نہ کرنے پکا عزم کرے ۔ اگر زانیہ عورت يا  زانی مرد توبہ نہيں كرتا تو اس سے نكاح کرنا صحيح نہيں ہوگا۔

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (النور:3)

زانى مرد نکاح نہیں کرے گا مگر کسی زانیہ عورت سے، یا کسی مشرکہ عورت سے، اور زانیہ عورت، اس سے نکاح نہیں کرے گا مگر کوئی زانی یا مشرک، اور  یہ کام ايمان والوں پر حرام كر ديا گيا ہے ۔

مرثد بن ابو مرثد غنوى رضى اللہ تعالى عنہ مكہ سے قيديوں كو اٹھا كر لايا كرتے تھے، اور مكہ ميں ايك بدكار اور زانيہ عورت تھى جس كا نام عناق تھا، وہ ان كى دوست تھى۔ وہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور عرض كى اے اللہ كے رسول ! كيا ميں عناق سے شادى كر لوں ؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے خاموشى اختيار كى چنانچہ يہ آيت نازل ہوئى: الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (النور:3)

تو رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے بلا كر ميرے سامنے يہ آيت تلاوت فرمائى اور كہنے لگے: تم اس سے نكاح مت كرو۔  (صحیح سنن أبي داود: 2051 )

چنانچہ سوال میں مذکورہ صورت حال میں اگر وہ دونوں  زنا سے پکی اور سچی توبہ کر لیتے ہیں، انہیں اپنے جرم پر ندامت بھی ہے، آئندہ ایسا جرم نہ کرنے کا پکا عزم کرتے ہیں اور نکاح کے ارکان وشروط پورے ہیں تو ان کا نکاح صحیح ہو گا۔

واضح رہے کہ عورت کے لیے نکاح سے پہلے ایک حیض گزارنا لازمی ہے تاکہ استبراء رحم ہو جائے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے