سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اگر حق مہر نہ ادا کیا ہو تو کیا خلع کے وقت دینا ہوگا؟
  • 6954
  • تاریخ اشاعت : 2026-06-29
  • مشاہدات : 17

سوال

اگر حق مہر نہ ادا کیا ہو تو خلع کے وقت دینا ہوگا اورکیا لڑکے والےلڑکی کا جہیز لے سکتے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بیوی کا معاوضہ دے کر اپنے خاوند سے علیحدگی کا مطالبہ کرنا خلع کہلاتا ہے۔ یہ معاوضہ خاوند اور بیوی کے اتفاق سے طے ہوتا ہے، وہ  حق مہر بھی ہو سکتا ہے، اگر وہ آپس میں حق مہر سےکم دولت پر بھی اتفاق کر لیں تو وہ بھی بطور عوض دے کر خلع ہو سکتا ہے۔ بعض فقہاء کے ہاں حق مہر سے زیادہ پر باہمی اتفاق ہو جائے تو درست ہے، اگرچہ یہ مناسب نہیں ہے۔ احتیاط اسی میں ہے کہ خاوند حق مہر واپس لے لے یا حق مہر سے کم دولت لے لے، حق مہر سے زیادہ نہ لے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَلا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً إِلا أَنْ يَخَافَا أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ )البقرة: 229(

اور تمھارے لیے حلال نہیں کہ اس میں سے جو تم نے انھیں دیا ہے کچھ بھی لو، مگر یہ کہ وہ دونوں ڈریں کہ وہ اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے۔ پھر اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو عورت اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں دے دے۔

مذکورہ آیت مبارکہ میں خلع کا بیان ہے، یعنی عورت خاوند سے علیحدگی حاصل کرنا چاہے اور خاوند طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو عورت جان چھڑانے کے لیے اپنا مہر یا خاوند اور بیوی کے درمیان جو بھی آپس میں یا حاکم کی عدالت میں طے پا جائے، وہ چیز بطور فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا لے۔ پھر خواہ خاوند خود ہی فدیہ لے کر اسے چھوڑ دے، یا اگر وہ اس پر تیار نہ ہو تو حاکم اسے فدیہ لے کر چھوڑنے کا حکم دے، اگر وہ نہ مانے تو عدالت نکاح فسخ کر دے۔ چونکہ یہ درحقیقت طلاق نہیں بلکہ عورت کی طرف سے علیحدگی کا مطالبہ ہے، اس لیے اسے خلع کہتے ہیں، اس کی عدت ایک حیض ہے۔ [ ترمذی : ۱۱۸۵، عن الربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہ ] تاکہ معلوم ہو جائے کہ عورت کو حمل تو نہیں اور عدت کے دوران میں خاوند رجوع بھی نہیں کر سکتا۔ (تفسیر القرآن  الکریم از عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ)

سیدنا  عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اللہ کے رسول! مجھے ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں البتہ میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْبَلِ الحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً (صحيح البخاري، الطلاق: 5273)

کیا تم ان کا دیا ہوا باغ واپس کر سکتی ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے (حضرت ثابت  رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: ”باغ قبول کر کے اس کو آزاد کردو۔ 

مذکورہ بالا دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ خلع کی صورت میں عورت کے ذمہ فدیہ کی ادائیگی لازمی ہوتی ہے، اگر خاوند نے اپنی بیوی کو حق مہر کی ادائیگی نہیں کی اور وہ خلع لینا چاہتی ہے تو اگر وہ دونوں بطور فدیہ حق مہر کو ساقط کرنے پر   راضی ہو جائیں تو جائز ہے۔

جہیز  کا سامان لڑکی والے اپنی بیٹی کو دیتے ہیں، وہ اسی کی ملکیت ہے۔ لڑکے والوں کے لیے وہ سامان لینا جائز نہیں ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے