الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قبرستان جانا سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان جایا کرتے تھے اور آپ نے اس کا حکم بھی دیا ہے۔
سيدنا بريده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا (صحيح مسلم، الجنائز: 977)
میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو (اب) تم ان کی زیارت کیا کرو۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ وَلَمْ يُقِمْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ وَأَتَاكُمْ (صحيح مسلم، الجنائز: 974)
جس رات رسول اللہ ﷺ کی باری ان کے پاس ہوتی تو رسول اللہ ﷺ رات کے آخری حصے میں بقیع (کے قبرستان میں) تشریف لے جاتے اور فرماتے: ’’اے ایمان رکھنے والی قوم کے گھرانے! تم پر اللہ کی سلامتی ہو، کل کے بارے میں تم سے جس کا وعدہ کیا جاتا تھا، وہ تم تک پہنچ گیا۔ تم کو (قیامت) تک مہلت دے دی گئی اور ہم بھی، اگر اللہ نے چاہا تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! بقیع غرقد (میں رہنے ) والوں کو بخش دے۔‘‘ قتیبہ نے (اپنی روایت) میں ’’واتاكم‘‘ (تم تک پہنچ گیا) نہیں کہا۔
قبرستان جانے کو دو بنیادی مقاصد کی وجہ سے مسنون ٹھہرایا گیا ہے:
پہلا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی آخرت اور انجام کو یاد کرے؛ کیونکہ وہ بھی اسی طرح ہو جائے گا جیسے یہ قبر میں مدفون شخص ہو چکا ہے۔ اس کا ٹھکانہ بھی قبر ہی ہوگا۔ اس سے وہ نصحیت پکڑے، رب کے حضور توبہ کرے، نیک اعمال کرےاور آخرت کی تیاری کرے۔
دوسرا مقصد میت کے ساتھ احسان کرتے ہوئے اس کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کرنا ہے؛ کیونکہ میت کو دعاؤں کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔
والله أعلم بالصواب