الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہر گھر میں تھوڑی بہت رنجشیں، غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں، ان کو آپس میں مل بیٹھ کر حل کرنے اور سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک عقل مند انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ذ را سی بات پر اتنا غصے میں آ جائے کہ منہ سے طلاق کا لفظ نکال کر خاوند اور بیوی کے مقدس رشتے کو ختم کردے۔
اس لیے اگر خاوند اور بیوی کا آپس میں کسی بات پر جھگڑا ہو جائے تو اسے آپس میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، یا دونوں خاندانوں کے افراد مل کر اس پریشانی کا حل نکالیں۔ جب تمام کوششوں کے باوجود رشتہ نبھانا ممکن نہ ہو تو اسلام نے خاوند کو طلاق کے ذریعے اس رشتے کو ختم کرنے کا اختیار دیا ہے۔
آپ کا اپنى بيوى كو يہ كہنا كہ’’ میری بیوی شکیلہ کو طلاق ہوگی اگر میں نے آپ کے ساتھ آپ کی بہن کے معاملے پر بحث وتکرار کی، یا میں نے آپ کی بہن کی شکل کی طرف بھی دیکھا، یا میں نے آپ کی بہنوں کے ساتھ کوئی رشتہ یا تعلقات قائم کیے‘‘اور آپ کی نیت بھی طلاق دینے کی ہو، تو جب آپ بیوی کے ساتھ بہن کے معاملے پر بحث وتکرار کرو گے، یا اس کی بہن کی شکل کی طرف دیکھو گے، یا اس کی بہنوں کے ساتھ کوئی رشتہ یا تعلقات رکھو گے تو اس کو طلاق واقع ہو جائے گی۔
امام ابن تيمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أن يكون قصد إيقاع الطلاق عند الصفة. فهذا يقع به الطلاق إذا وجدت الصفة كما يقع المنجز عند عامة السلف والخلف (مجموع الفتاوى از ابن تيميہ: جلد نمبر 33، صفحہ نمبر 46)
اس کا (خاوند کا) ارادہ صفت کے وقت طلاق دینے کا ہو، تو سلف اور خلف كے تمام علماء کرام کے ہاں، جب بھی صفت پائی جائے گی، طلاق واقع ہو جائے گی، جیسا کہ موقع پر فوری دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
ابن حزم رحمہ اللہ نے اس طلاق کے واقع ہونے پر علماء كرام كا اجماع نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:
وَاتَّفَقُوا أَن الطَّلَاق إلى أجل أَو بِصفة وَاقع ان وَافق وَقت طَلَاق (مراتب الإجماع از ابن حزم، صفحہ نمبر72)
علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ طلاق جس کو وقت يا كسی صفت کےساتھ معلق کیا گيا ہو، واقع ہو جاتی ہے، اگر وہ وقت طلاق کے مطابق ہو۔
آپ کے مطابق مذکورہ پیغامات سے آپ کا مقصد طلاق دینا نہیں تھا، بلکہ بیوی کو منع کرنا اور ڈرانا مقصد تھا تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی، لیکن یہ قَسَم کی صورت ہے۔ اگر آپ نے ابھی تک اپنی بیوی کے ساتھ اس کی بہن کے معاملے پر بحث وتکرار نہیں کی، یا اس کی بہن کی شکل کی طرف نہیں دیکھا، یا اس کی بہنوں کے ساتھ کوئی رشتہ یا تعلقات نہیں رکھے تو آپ کی قسم نہیں ٹوٹی ۔ آپ اپنی شرط کو واپس لے سکتے ہیں، یعنی آپ اپنی بیوی کو کہہ دیں کہ میں نے تیری طلاق کو ان کاموں کے ساتھ معلق کیا تھا میں اسے اب ختم کرتا ہوں تو جب آپ دوبارہ بات چیت کریں گے یا تعلقات رکھیں گے تو آپ کی بیوی کو طلاق نہیں ہو گی۔
اگر آپ نے شرط واپس لینے سے پہلے مذکورہ کاموں میں کوئی کام کر لیا ہے تو آپ کی قسم ٹوٹ چکی ہے، اس لیے آپ پر قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے۔
واضح رہے کہ طلاق کے معاملات حساس نوعیت کے ہیں، اس میں اس طرح کا غیر سنجیدہ رویہ رکھنا بالکل درست نہیں ہے۔ غصے اور جذبات کو قابو میں رکھنا چاہیے، بیوی سے کسی کام کو کروانے یا کسی کام سے روکنے کے دیگر کئی طریقے ہیں جو اختیار کیے جا سکتے ہیں، بات بات پر طلاق کو لے آنا کہ تو نے فلاں کام کیا تو تمہیں طلاق ، یا میں نے فلاں کام نہ کیا تو تمہیں طلاق، غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
قسم کا کفارہ:
ارشاد باری تعالی ہے:
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (المائدة: 89)
اللہ تم سے تمھاری قسموں میں لغو پر مؤاخذہ نہیں کرتا اور لیکن تم سے اس پر مؤاخذہ کرتا ہے جو تم نے پختہ ارادے سے قسمیں کھائیں۔ تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، درمیانے درجے کا، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا انھیں کپڑے پہنانا، یا ایک گردن آزاد کرنا، پھر جو نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے، جب تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم شکر کرو۔
والله أعلم بالصواب.