سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
عید کا خطبہ دیتے ہوئے منبر استعمال کرنا
  • 6940
  • تاریخ اشاعت : 2026-06-29
  • مشاہدات : 7

سوال

اگر عذر کی بنا پر عید کی نماز مسجد میں پڑھی جائے تو کیا خطبہ دیتے وقت منبر کا استعمال درست ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امام بخاری رحمہ اللہ صحیح بخاری میں عنوان قائم کیا ہے:  بَابُ الخُرُوجِ إِلَى المُصَلَّى بِغَيْرِ مِنْبَرٍ  ( عیدگاہ میں خالی جانا منبر نہ لے جانا) ، پھر اس کے بعد سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں:

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ فَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمْ يَزَلْ النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُصَلَّى إِذَا مِنْبَرٌ بَنَاهُ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ فَإِذَا مَرْوَانُ يُرِيدُ أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَجَبَذْتُ بِثَوْبِهِ فَجَبَذَنِي فَارْتَفَعَ فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقُلْتُ لَهُ غَيَّرْتُمْ وَاللَّهِ فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُ فَقُلْتُ مَا أَعْلَمُ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا لَا أَعْلَمُ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَجَعَلْتُهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ (صحیح البخاری، العیدین: 956)

نبی ﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے تو پہلے جو کام کرتے وہ نماز ہوتی، اس سے فراغت کے بعد آپ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے۔ لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے۔ تب آپ انہیں نصیحت و تلقین کرتے اور اچھی باتوں کا حکم دیتے۔ پھر اگر آپ کوئی لشکر بھیجنا چاہتے تو اسے تیار کرتے یا جس کام کا حکم کرنا چاہتے اس کا حکم دے دیتے۔ اس کے بعد گھر لوٹ آتے۔ حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد بھی لوگ ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ میں ایک دفعہ مروان کے ہمراہ عیدالفطر یا عیدالاضحیٰ پڑھنے گیا۔ وہ ان دنوں مدینے کا گورنر تھا۔ جب ہم عیدگاہ پہنچے تو ایک منبر وہاں رکھا ہوا تھا جسے کثیر بن صلت نے تیار کیا تھا۔ مروان نے چاہا کہ اچانک نماز پڑھنے سے قبل اس پر چڑھے، چنانچہ میں نے اس کا کپڑا پکڑ کر کھینچا لیکن اس نے مجھے جھٹک دیا۔ پھر وہ منبر پر چڑھ گیا، بعد ازاں اس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا تو میں نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں نے سنت نبوی کو بدل دیا ہے۔ اس نے جواب دیا: ابوسعید! وہ بات جاتی رہی جو تم جانتے ہو۔ میں نے جوابا کہا: اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں وہ اس سے کہیں بہتر ہے جسے میں نہیں جانتا۔ اس پر مروان گویا ہوا: بات دراصل یہ ہے کہ لوگ ہمارے خطبے کے لیے نماز کے بعد بیٹھتے نہیں، لہذا میں نے خطبے کو نماز سے پہلے کر دیا۔

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ولم يكن هنالك منبر يرقى عليه، ولم يكن يخرج منبر المدينة، وإنما كان يخطبهم قائما على الأرض (زاد المعاد از ابن القيم، جلد1، ص 429)

عید گاہ میں منبر نہیں ہوتا تھا، اور نہ ہی مدینہ میں مسجد نبوی کا منبر عید گاہ لایا جاتا تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین پر کھڑے ہو کر خطاب کرتے تھے۔

سيدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْعِيدِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَحَثَّ عَلَى طَاعَتِهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ ثُمَّ مَضَى حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ سِطَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ فَقَالَتْ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ قَالَ فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ يُلْقِينَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ مِنْ أَقْرِطَتِهِنَّ وَخَوَاتِمِهِنَّ (صحیح مسلم، العیدین: 885)

میں عید کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا آپﷺ نے خطبے سے پہلے اذان اور تکبیر کے بغیر نماز سے ابتدا کی پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے اللہ کے تقوے کا حکم دیا اس کی اطاعت پر ابھارا لوگوں کو نصیحت کی اور انھیں (دین کی بنیادی باتوں کی) یاد دہانی کرائی پھر چل پڑے حتیٰ کہ عورتوں کے پاس آ گئے (تو) انھیں وعظ و تلقین ( تذکیر) کی اور فرمایا۔ ’’صدقہ کرو کیونکہ تم میں اسے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں۔‘‘عورتوں کے درمیان سے ایک بھلی سیاہی مائل رخساروں والی عورت نے کھڑے ہو کر پوچھا: اللہ کے رسول ﷺ!کیوں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’اس لیے کہ تم شکایت بہت کرتی ہو اور اپنے رفیق زندگی کی ناشکری کرتی ہو۔‘‘ (جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا اس پر وہ عورتیں اپنے زیورات سے صدقہ کرنے لگیں وہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگھوٹھیاں ڈالنے لگیں۔

اگر عید گاہ میں منبر لے جانے کی ضرورت ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ایسے ہی مسجد میں عید نماز ادا کرنے کی صورت میں خطبہ منبر پر یا بغیر منبر ہر دو صورت میں دیا جا سکتا ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے