الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قربانی کا گوشت انسان کو خود بھی کھانا چاہیے، اپنے اہل و عیال کو بھی کھلائے اور فقیروں مسکینوں کو بھی کھلائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾ (الحج: 28)
سو ان میں سے کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو کھلاؤ۔
اور فرمایا:
﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾ (الحج: 36)
توان سے کچھ کھاؤ اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ۔
سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا، پھر فرمایا: تم میں ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت مشکل میں آئے تھے۔ اب (قربانی کا گوشت) کھاؤ، ذخیرہ کرو، اور صدقہ کرو۔ (سنن أبي داود، الضحايا: 2812)
اس لیے افضل یہ ہے کہ انسان قربانی کا گوشت سارا خود ہی نہ کھائے، بلکہ خود بھی کھائے، اپنے اہل و عیال کو بھی کھلائے اور فقیروں مسکینوں کو بھی کھلائے۔
والله أعلم بالصواب