الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اس کے لیے ذوالحجہ کا چاند طلوع ہو جانے کے بعد بال اور ناخن کٹوانا منع ہے۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا (صحیح مسلم، الأضاحي: 1977)
جب عشرہ (ذوالحجہ) شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے۔
یہ حکم صرف اس شخص کے لیے ہے جو خود قربانی کرنا چاہتا ہے، اس کے سوا جن کی طرف سے قربانی ہو رہی ہے (مثلاً اہلِ خانہ)، ان پر بال یا ناخن کٹوانے کی پابندی نہیں ہے۔
والله أعلم بالصواب.