سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
بیوی کو ڈرانے کے لیے کہنا کہ "میرا تم سے کوئی تعلق نہیں"، کیا طلاق ہو جائے گی؟
  • 6894
  • تاریخ اشاعت : 2026-08-01
  • مشاہدات : 20

سوال

میری شادی 20/03/2014 کو ہوئی تھی۔ 13/05/2026 کو میں غصے میں تھا۔ غصے کی حالت میں نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ زبانی کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔ میں نے ایک کاغذ پر بھی لکھ دیا: "میرا تم سے کوئی تعلق نہیں"۔ یہ میں نے صرف ڈرانے کے لیے لکھا تھا۔ میری نیت طلاق دینے کی بالکل نہیں تھی۔ میرا مقصد صرف بیوی کو ڈرانا تھا تاکہ جو غلط فہمی ہے اسے دور کرےاور کسی غلط تعلق سے بچے۔ میں اپنے 4 بچوں عمر 11، 9، 4، 2 سال سے ان کی ماں کو جدا نہیں کرنا چاہتا۔ میرے سوالات یہ ہیں: 1۔ کیا اس صورت میں شرعی طور پر طلاق واقع ہو گئی ہے؟ 2۔ اگر طلاق واقع ہو گئی ہے تو رجوع کا طریقہ کیا ہوگا؟ 3۔ اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو کیا اب ہمارا نکاح قائم ہے؟۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کو چاہیے کہ وہ شادی  کرنے سے پہلے نکاح و طلاق کے مسائل سے بخوبی آگاہی حاصل کرے، تا کہ اسے نکاح و طلاق کی شروط ، آداب، خاوند اور بیوی کے حقوق و فرائض، طلاق دینے کا شرعی طریقہ اور اس سے متعلقہ  تمام احکامات کا علم ہو سکے اور وہ اپنی ازدواجی زندگی شرعی احکامات کے مطابق گزار سکے۔

قرآن وسنت کی روشنی میں اکٹھی تین طلاقیں دینا حرام ہے، ایسا کرنے والے کو اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگنا چاہیے۔

 لیکن اگر کوئی انسان اکٹھی تین طلاقیں دے دے تو وہ ایک ہی شمار ہو گی، لہذا اگر آپ نے اپنی بیوی ایک ہی مجلس میں دو مرتبہ کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں تو  یہ ایک ہی طلاق شمار ہو گی  اور آپ کو عدت کے دوران بیوی سے رجوع کا حق حاصل ہے؛ کیوں کہ نکاح کے مضبوط بندھن کو شریعت نے  یک لخت ختم نہیں کیا بلکہ  تین طلاق کا سلسلہ اور پھر ان میں سے پہلی دو کے بعد  سوچنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ گھر ٹوٹنے سے بچ جائے۔

عدت گزرنے کے بعد نئے سرے سے نکاح ہو سکتا ہے، جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

آپ نے جو کاغذ پر لکھا ہے کہ ’’میرا تم سے کوئی تعلق نہیں‘‘ ، اس سے کوئی نئی طلاق واقع نہیں ہو گی،  کیونکہ آپ کا طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة. (صحيح مسلم، الطلاق: 1472).

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک  (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلاق کےناجائز طریقے کی روک تھام کے لیے ایک سیاسی فیصلہ کیا تھا کہ جس نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں  ہم اسے نافذ کر دیں گے، یہ وقتی سیاسی فیصلہ تھا، شرعی نہیں تھا۔ (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: 2/105).

یاد رہے! وہ عورت جسے روٹین سے ماہواری آتی ہے اس کی عدت کی مدت تین حیض ہے، یعنی طلاق کے بعد اگر عورت کو تین مرتبہ حیض آ جائے اور وہ تیسرے حیض سے پاک ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ. (البقرة: 228).

اور وہ عورتیں جنہیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں۔

وہ عورت جس کو ماہواری آنا بند ہو گئی ہے، یا عمر کم ہونے کی وجہ سے ابھی آنا شروع ہی نہیں ہوئی، ان کی عدت تین قمری مہینے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ﱠ . (الطلاق: 4).

اور وہ عورتیں جوتمہاری عورتوں میں سے حیض سے نا امید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض نہیں آیا۔

اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ. (الطلاق: 4).

اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ  وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔

رجوع کا طریقہ کار:               

خاوند بول کر بھی رجوع کر سکتا ہے کہ اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہے کہ میں رجوع کرتا ہوں یا کسی اور کے سامنے یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی میں اس سے رجوع کرتا ہوں۔

اسی طرح اگر خاوند رجوع کی نیت سے اپنی بیوی سے قربت اختیار کرے تو بھی رجوع ہو جائے گا۔ رجوع پر گواہ بھی بنانے چاہئیں۔

ارشاد باری تعالی ہے:

فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (الطلاق: 2)

پھر جب وہ اپنی میعاد کو پہنچنے لگیں تو انھیں اچھے طریقے سے روک لو، یا اچھے طریقے سے ان سے جدا ہو جاؤ اور اپنوں میں سے دو صاحب عدل آدمی گواہ بنا لو اور شہادت اللہ کے لیے قائم کرو۔ یہ وہ (حکم) ہے جس سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے