سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
پیشاب کا قطرہ باہر نہ گرے لیکن نظر آئے تو کیا وضو ٹوٹتا ہے؟
  • 6888
  • تاریخ اشاعت : 2026-09-02
  • مشاہدات : 10

سوال

میرے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پیشاب کا قطرہ نکل کر عضو کے سرے تک آ جاتا ہے، مگر باہر نہیں گرتا اور کپڑوں پر بھی نہیں لگتا، چیک کرنے پر نظر آتا ہے۔ کیا اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ اور کیا اس حالت میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت کے مطابق استنجا کا طریقہ یہ ہے کہ پیشاب کے مقام کو پانی سے دھو لیا جائے، یا ٹشو، کپڑے یا کسی دوسری پاک چیز سے صاف کر لیا جائے۔ اس کے بعد پیشاب بند ہونے پر آپ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اپنے کپڑوں کی بار بار تلاشی لیتے پھریں کہ کہیں کوئی قطرہ تو نہیں لگا۔

اصل یہ ہے کہ پیشاب کے بعد عضوتناسل خود بخود سکڑ جاتا ہے۔ اس کی مثال دودھ دینے والے تھن کی سی ہے؛ اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو وہ سکڑ جاتا ہے، لیکن اگر اسے بار بار دبایا اور نچوڑا جائے تو اس سے مزید نکلنے لگتا ہے۔ اگر بالفرض کوئی قطرہ نکل بھی آیا ہو اور آپ کو اس کا علم نہ ہو، تو اس پر انسان سے کوئی مؤاخذہ نہیں ہوتا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا۔

البتہ اگر حقیقت میں (کسی وسوسے کی بنا پر نہیں) پیشاب مسلسل تھوڑا تھوڑا جاری رہتا ہو، اور پھر رک بھی جاتا ہو، تو اس وقت کا انتظار کرے۔ جب پیشاب رک جائے تو استنجا کر کےوضو کرے اور نماز ادا کرے۔

جس شخص  کا پیشاب اس کے اختیار کے بغیر مسلسل جاری رہتا ہو اور بند نہ ہوتا ہو، وہ کوئی حفاظتی چیز (جیسے کپڑا یا پیڈ وغیرہ) استعمال کرے تاکہ نجاست نہ پھیلے۔ پھر اگر پیشاب اتنی دیر کے لیے رک جاتا ہو کہ وہ طہارت حاصل کرکے نماز ادا کر سکے، تو اسی وقفے میں طہارت حاصل کرکے نماز پڑھے۔ اور اگر اتنا وقفہ بھی نہ ملے بلکہ پیشاب مسلسل جاری رہے، تو وہ مستحاضہ عورت کی طرح ہر نماز کے وقت نیا وضو کرے اور نماز ادا کرے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے