الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
طلاق دینے کا سنت طریقہ درج ذیل ہے:
1. انسان اپنی بیوی کو پاکی کی حالت میں جماع کیے بغیر طلاق دے۔
2. ایک طلاق دے، ایک سے زائد طلاقیں نہ دے۔
3. طلاق دینے کے بعد اگر رجوع کرنا چاہتا ہے توکرلے ورنہ عورت کی عدت ختم ہونے دے اور اسے چھوڑ دے۔
مندرجہ بالا سطور سے واضح ہوتا ہے کہ حیض کی حالت میں بیوی کو طلاق دینا خلاف سنت ہے، ایسے کرنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے، اسے اپنے گناہ سے توبہ کرنی چاہیے، اور یہ عزم بھی کرے کہ آئندہ ایسی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہو گا۔
لیکن اگر کسی آدمی نے حیض کی حالت میں طلاق دے دی ہے تو اس کی طلاق ہو جائے گی، آپ کے خاوند نے اکٹھی تین طلاقیں دی ہیں، تو وہ ایک ہی شمار ہو گی، اور شوہر کو عدت کے دوران آپ سے رجوع کا حق حاصل ہے؛ کیوں کہ نکاح کے مضبوط بندھن کو شریعت نے یک لخت ختم نہیں کیا بلکہ تین طلاق کا سلسلہ اور پھر ان میں سے پہلی دو کے بعد سوچنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ گھر ٹوٹنے سے بچ جائے۔
عدت گزرنے کے بعد نئے سرے سے نکاح ہو سکتا ہے، جس میں ولی، گواہ، حق مہر، عورت کی رضا مندی ضروری ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة. (صحيح مسلم، الطلاق: 1472).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔
یاد رہے! وہ عورت جسے روٹین سے ماہواری آتی ہے اس کی عدت کی مدت تین حیض ہے، یعنی طلاق کے بعد اگر عورت کو تین مرتبہ حیض آ جائے اور وہ تیسرے حیض سے پاک ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ. (البقرة: 228).
اور وہ عورتیں جنہیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں۔
وہ عورت جس کو ماہواری آنا بند ہو گئی ہے، یا عمر کم ہونے کی وجہ سے ابھی آنا شروع ہی نہیں ہوئی، ان کی عدت تین قمری مہینے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ. (الطلاق: 4).
اور وہ عورتیں جو تمہاری عورتوں میں سے حیض سے نا امید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض نہیں آیا۔
اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ. (الطلاق: 4).
اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔
رجوع کا طریقہ کار:
خاوند بول کر بھی رجوع کر سکتا ہے کہ اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہے کہ میں رجوع کرتا ہوں یا کسی اور کے سامنے یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی میں اس سے رجوع کرتا ہوں۔ اسی طرح اگر خاوند رجوع کی نیت سے اپنی بیوی سے قربت اختیار کرے تو بھی رجوع ہو جائے گا۔ رجوع پر گواہ بھی بنانے چاہئیں۔
ارشاد باری تعالی ہے:
فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (الطلاق: 2)
پھر جب وہ اپنی میعاد کو پہنچنے لگیں تو انھیں اچھے طریقے سے روک لو، یا اچھے طریقے سے ان سے جدا ہو جاؤ اور اپنوں میں سے دو صاحب عدل آدمی گواہ بنا لو اور شہادت اللہ کے لیے قائم کرو۔ یہ وہ (حکم) ہے جس سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔
والله أعلم بالصواب.