الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
شریعت میں زنا کبیرہ گناہ اور سنگین ترین جرم ہے، بلکہ اسلام میں کسی بھی جرم پر اتنی سخت سزا مقرر نہیں کی گئی جتنی سزا زنا کرنے پر رکھی گئی ہے۔ اگر غیر شادی شدہ شخص زنا کرے تو اسے 100 کوڑے مارنے کا حکم ہے، اور ایک سال کے لیےجلاوطن کر دیا جائے گا۔ اگر شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرے تو اسے سنگسار کیا جائے گا۔
ارشاد باری تعالی ہے:
الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﱠ (النور: 2)
جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمہیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔
سیدنا ابوہریرہ اور زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی کے غیرشادی شدہ بیٹے نے ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کیا تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا:
عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا (صحيح البخاري، الشروط: 2724).
تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی کی جائے گی، اے انیس تو کل اس آدمی کی بیوی کی طرف جانا اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دینا۔
اس عورت نے بدکاری کر کے سنگین ترین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اسلامی عدالتی نظام میں اس کی سزا پتھروں کے ساتھ سنگسار کرناہے، اس عورت نے دوہرا جرم کیا ہے: اللہ کی حدوں کو پامال کرنا اور اپنے شریک حیات کے ساتھ خیانت۔
اس عورت پر واجب ہے کہ وہ اپنے اس گناہ پر اللہ تعالی سے توبہ کرے، کثرت کے ساتھ استغفار کرے، کثرت کے ساتھ نیک اعمال کرے کہ اللہ تعالی اپنا رحم کرتے ہوئے اس کی توبہ قبول کر لے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى (طه: 82)
اور بے شک میں یقینا اس کو بہت بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائےاور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر چلے۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ، كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَه (سنن ابن ماجه، الزهد: 4250) (صحيح).
گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہو جاتا ہے جیسا اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں۔
خاوند سے خلع لینا
بغیر کسی معقول وجہ کے عورت کا خاوند سے خلع کا مطالبہ کرنا حرام ہے۔
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا، فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ, فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ. (سنن أبي داود، الطلاق: 2226) )صحيح)
جو عورت بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق مانگتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
اگر کوئی معقول وجہ ہو جیسے مرد اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے سے عاجز ہے، یا اس پر ظلم کرتا ہے یا عورت مرد کو بدصورتی کی وجہ سے ناپسند کرتی ہے یا خاوند فاسق وفاجر ہو جو باربار نصیحت کرنے کے باوجود نہیں سمجھتا تو عورت خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
اس صورت میں مرد کو خلع قبول کر نے کا کہا جائے گا، اگر وہ خلع قبول کرنے سے انکار کر دے تو عدالت کے ذریعہ بھی خلع لیا جا سکتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اللہ کے رسول! مجھے ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں البتہ میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْبَلِ الحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً (صحيح البخاري، الطلاق: 5273)
کیا تم ان کا دیا ہوا باغ واپس کر سکتی ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے (حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: ”باغ قبول کر کے اس کو آزاد کردو۔
سوال میں مذکورہ صورت حال میں عورت کا خلع کا مطالبہ کرنا محل نظر ہے، کیونکہ اس نے غیر مرد سے حرام تعلق قائم کیا ہے، عین ممکن ہے خلع کی کوئی معقول وجہ نہ ہو۔ اس لیے اس عورت کا خلع لینا مشکوک معاملہ ہے۔ اس حوالے سے عدالت فریقین کی بات سن کر کوئی فیصلہ کر سکتی ہے کہ آیا عورت خلع لینے کا حق رکھتی ہے یا نہیں؟
ممكن ہے عورت کو خلع لینے پر اس بدکار نے بہکایا ہو اور شوہر کے خلاف بد ظن کیا ہو۔ ایسا کرنا کبیرہ گناہ اور شیطانی عمل ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امرَأَةً عَلَى زَوجِهَا أَوْ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ (سنن أبي داود، الطلاق: 2175) (صحیح)
وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جس نے کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف ابھارا۔
اسی طرح سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ : نِعْمَ أَنْتَ (صحيح مسلم، صفة القيامة والجنة والنار: 2813)
ابلیس اپنا تخت پانى پر لگاتا ہے، پھر اپنے لشكر روانہ كرتا ہے، ابلیس کا قریبی ترین وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فسادی ہو، کوئی آکر رپورٹ دیتا ہے کہ ميں نے آج فلاں فلاں كام كيا ہے، تو ابلیس كہتا ہے تو نے كچھ بھی نہيں كيا، نبى صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا: پھر ان ميں سے ايك آ كر كہتا ہے: ميں فلاں شخص کو طرح طرح سے ورغلاتا رہا حتى كہ میں نے اس كے اور اس كى بيوى كے درميان جدائى ڈال دى، نبى کریم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ابلیس اسےاپنے قریب کرتا ہے اور كہتا ہے ہاں! تو نے (قابل ذکر) كام كيا ہے۔
والله أعلم بالصواب.