سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا امام مسجد کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
  • 6800
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-20
  • مشاہدات : 12

سوال

آئمہ مساجد اور دیگر لوگ جو آج کل 25 سے 30 ہزار تنخواہ لیتے ہیں، کیا وہ مسکین کے مصرف میں شامل ہوں گے کہ انہیں زکوٰۃ دی جا سکے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں زکاۃ کے مستحق  افراد کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة: 60)

صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں زکاۃ کا پہلا اور دوسرا مصرف فقراء اور مساکین کو قرار دیا گیا ہے۔  فقیر اور مسکین دونوں لفظ محتاج کے معنی میں آتے ہیں۔ فقیر مسکین سے زیادہ بدحال ہوتا ہے، فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو اور مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہے۔ لہذا اگر کسی شخص کی آمدنی سے اس کے گھر کے ضروری اخراجات (کھانا پینا، لباس، رہائش وغیرہ) پورے نہیں ہوتے، اس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہے تو اسے زکاۃ  دی جا سکتی ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے