الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں زکاۃ کے مستحق افراد کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة: 60)
صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔‘‘
بہتر طریقہ یہی ہے کہ آپ کا بچہ مدرسے سے کھانا کھانے کی بجائے باہر سے کھانا کھا لے۔ اگر ایسی کوئی صورت ممکن نہیں ہےتو مدرسے کے ذمے داران سے کھانے کے ماہانہ اخراجات کا اندازہ کر کے انہیں اتنی رقم ادا کر دیں۔
والله أعلم بالصواب.