الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جو شخص مسجد میں داخل ہو اس کے لیے مستحب ہے کہ دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔
سيدنا ابوقتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ المَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِس (صحيح البخاري، الصلاة: 444)
جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے قبل دو رکعت ضرور پڑھے۔
اگر انسان مسجد میں آئے اور خطیب خطبہ جمعہ دے رہا ہو تب بھی دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھنا چاہیے۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ جمعہ کے دن ایک شخص اس وقت آیا جب نبی ﷺ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے۔ آپ نے پوچھا:
أَصَلَّيْتَ يَا فُلاَنُ؟» قَالَ: لاَ، قَالَ: «قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْن (صحيح البخاري، الجمعة: 930)
اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔ (صحیح بخاری: 930)
تحیۃ المسجد نماز کے ممنوعہ اوقات میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ جو شخص کسی بھی وقت وضو کرے اس کے لیے مستحب ہےکہ وہ دو یا دو سے زائد رکعات ادا کرے، اگرچہ ممنوعہ وقت ہی کیوں نہ ہو۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نماز فجر کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
يَا بِلاَلُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الإِسْلاَمِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الجَنَّةِ» قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي: أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا، فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ (صحيح البخاري، التهجد: 1149)
اے بلال! مجھے وہ عمل بتاؤ جو تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہو اور تمہارے ہاں وہ زیادہ امید والا ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔‘‘ حضرت بلال ؓ نے عرض کیا: میں نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو میرے نزدیک زیادہ پرامید ہو، البتہ میں رات اور دن میں جب وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جو نماز میرے مقدر میں ہوتی ہے پڑھ لیتا ہوں۔
والله أعلم بالصواب.