سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
امام نے تین رکتعیں ادا کرنے کے بعد غلطی سے سلام پھیر دیا ، کیا وہ بقیہ ایک رکعت پڑھے گا یا ساری نماز؟
  • 6777
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-18
  • مشاہدات : 12

سوال

ایک امام چار رکعت نماز پڑھا رہے تھے، لیکن غلطی سے تین رکعت پر سلام پھیر دیا۔ اب مسئلہ یہ ہوا کہ مقتدیوں نے امام کو بتایا کہ تین ہوئی ہیں، امام نے پوچھا آپ نے لقمہ کیوں نہیں دیا؟ مقتدیوں نے کہا کہ ہمیں بھی یقین نہیں تھا، پھر کچھ مقتدیوں نے کہا کہ دوبارہ چار رکعت پڑھائی جائیں گی اور بعض نے کہا نہیں صرف ایک ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ اتنی لمبی بات چیت کے بعد امام چار پڑھائے گا یا ایک ہی؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ نے ہمیں زوال کے بعد کی نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی اور دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد مسجد میں گاڑھی ہوئی ایک لکڑی کی طرف گئے اور اس پر ٹیک لگا لی، گویا آپ ناراض ہوں اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیا اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسری میں داخل فرمایا اور اپنا دایاں رخسار بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھ لیا۔ جلد باز لوگ تو مسجد کے دروازوں سے نکل گئے اور مسجد میں حاضر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا: کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ ان لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، مگر ان دونوں نے آپ سے گفتگو کرنے سے ہیبت محسوس کی۔ ایک شخص جس کے ہاتھ کچھ لمبے تھے اور اسے ذوالیدین کہا جاتا تھا، کہنے لگا:

أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلاَةُ؟ قَالَ: «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ» فَقَالَ: «أَكَمَا يَقُولُ ذُو اليَدَيْنِ» فَقَالُوا: نَعَمْ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى مَا تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، فَرُبَّمَا سَأَلُوهُ: ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ (صحيح البخاري، الصلاة: 482)

اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہو گئی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز ہی کم کی گئی ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ  نے فرمایا: ’’کیا ذوالیدین صحیح کہتا ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ یہ سن کر آپ آگے بڑھے اور جتنی نماز رہ گئی تھی اسے ادا کیا، پھر سلام پھیرا۔ اس کے بعد آپ نے تکبیر کہی اور سجدہ سہو کیا جو عام سجدے کی طرح یا اس سے کچھ لمبا تھا۔ پھر آپ نے سر اٹھایا اور اللہ أکبر کہا۔ پھر اللہ أکبر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا جو اپنے عام سجدوں کی سطح یا اس سے کچھ طویل تھا۔ پھر سر اٹھا کر اللہ أکبر کہا اور سلام پھیر دیا۔

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوال میں مذکور صورت حال میں ایک ہی رکعت ادا کی جائے گی اور سجدہ سہو کیا جائے گا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے