الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سفر کے احکامات شہر گاؤں کی حدود سے نکلنے کے بعد شروع ہوتے ہیں اور شہر گاؤں میں داخل ہونے کے بعد ختم ہو جاتے ہیں۔ یعنی انسان سفر سے واپسی پر اپنے شہر، قصبہ، یا دیہات کی آبادی میں داخل ہونے سے پہلے پہلے قصر کر سکتا ہے۔
سيدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ (صحيح البخاري، تقصير الصلاة: 1081)
ہم نے نبی ﷺ کے ہمراہ نکل کر مدینہ سے مکہ تک کا سفر کیا، آپ اس سفر کے دوران میں مدینہ واپسی تک نماز دو دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔
والله أعلم بالصواب.