سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
افطار پارٹی کرنا
  • 6771
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-20
  • مشاہدات : 8

سوال

کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اپنے گھروں میں افطار دعوتوں کا اہتمام کرتے تھے یا اللہ کے رسول صحابہ کرام کے گھروں میں افطار کے لئے تشریف لے جاتے تھے؟ آج کل کے دور میں دی جانے والی افطار پارٹیوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ میرے خاندان میں اس رمضان یہ صورتحال تھی کہ ہر روز کسی نہ کسی عزیز کے گھر یا ہوٹل میں مخلوط افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ ساری فیملی دوڑی چلی جاتی تھی افطار کرنے،کیا اپنے گھر میں افطار کرنا زیادہ اجروثواب کا باعث نہیں ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بلاشبہ روزہ افطار کروانے کی بے حد فضیلت ہے۔

سیدنا زید بن خالد جہنی  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا (أبواب الصوم، أبواب الصوم: 807، سنن ابن ماجه، الصيام: 1746) (صحيح)

جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اسے بھی اس کے برابر ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں سے ذرا بھی کم کیا جائے۔

سلف صالحین رحمہم اللہ دوسروں کو  کھانا کھلایا کرتے تھے اور اس عمل کو افضل ترین عبادت سمجھتے تھے۔

ابو جعفر محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لأن أدْعُو عشرةً من أصحابي فأطعمهُمُ طعامًا يشتهونَهُ، أحبَّ إليَّ منْ أن أعتقَ عشرةً من ولد إسماعيل (تفسیر ابن رجب، جلد 2، ص 177)

مجھے اسماعیل علیہ السلام  کی اولاد سے دس غلام آزاد کرنےسے زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے دس  ساتھیوں کو بلا کر ان کا پسندیدہ کھانا کھلاؤں ۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، داود الطائی ، مالک بن دینار ، احمد بن حنبل ، رحمہم اللہ   اور دیگر سلف صالحین خود روزے سے ہونے کے باوجود اپنی افطاری کسی دوسرےکودینا زیادہ پسند کرتے تھے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما تو یتیموں اورمسکینوں کے بغیر افطاری ہی نہیں کرتے تھے ۔ حسن اور عبد اللہ بن مبارک  مسلمان بھائیوں کو کھانے کھلاتے اورخود روزہ کی حالت میں ان کی خدمت کرتے تھے ۔ (تفسیر ابن رجب، جلد 2، ص 177)

دوسروں کوکھانا کھلانے سے باہمی محبت بڑھتی ہے جوجنت میں داخل ہونے ایک سبب ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  :

لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا (صحيح مسلم، الإيمان: 54)

تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ، اور تم مو من نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔

مذکورہ بالا گفتگو سے ثابت ہوتا ہے کہ روزے داروں کے روزے افطار کروانا عظیم عمل ہے، لیکن دیگر شرعی احکام کی پاسداری کرنا لازمی ہے۔ بے پردگی اور مخلوط افطار پارٹی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ عبادت اور ثواب کی غرض سے افطاری کا اہتمام کرنا چاہیے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے