الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر مرد یا عورت میں شادی سے پہلے کوئی ایسا مرض یاعیب ہے جس کی وجہ سے شادی کے بعد خرابیاں پیدا ہو سکتی ہوں، یا میاں بیوی کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں یا اس کا اثر اولاد کی تربیت پر پڑ سکتا ہے، یا اس عیب کی وجہ سے باہمی محبت کی بجائے نفرت پیدا ہونے کا خدشہ ہے، توایسے عیب کے بارے میں شادی سے پہلے آگاہ کرنا ضروری ہے، تاکہ اگر یہ رشتہ قائم ہو تو وہ ایک دوسرے کے عیوب و امراض سے باخبر ہوں ۔
سيدنا جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ (صحيح البخاري، الإيمان: 57)
میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز پڑھنے، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان سے خیرخواہی کرنے (کے اقرار) پر بیعت کی۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي (صحیح مسلم، الإيمان: 102)
جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں۔
آپ کی کمر کی تکلیف ایک عرصہ سےہے، جس کی وجہ سے شادی کے بعد پریشانی لاحق ہو سکتی ہے۔ اللہ نہ کرے کہیں آپ کی تکلیف بڑھ جائے تو آپ کے لیے بیوی کے اخراجات اٹھانے بھی مشکل ہو سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ آپ لڑکی والوں کو اپنی تکلیف کا بتائیں، اگر وہ رشتہ کرنے پر راضی ہو جائیں تو شادی کرلیں، یا پھر کمر کا علاج کروائیں– اللہ تعالی آپ کو مکمل صحت یاب فرمائے- پھر شادی کریں۔