سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
وتر پڑھنے کا سنت طریقہ
  • 6765
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-20
  • مشاہدات : 6

سوال

نماز وتر کا سنت طریقہ کیا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وتر کی نماز کا وقت نماز عشاء کے بعد سے لے کر طلوع فجر تک رہتا ہے، لیکن افضل وقت رات کے آخری تہائی حصہ میں نوافل پڑھنے کے بعد  ہے۔ اگر انسان کو یقین ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہو جائے گا تو وتر کو نوافل کے آخر میں پڑھنا افضل ہے، اگر اسے خدشہ ہو کہ وہ رات کو بیدار نہیں ہو سکے گا تو سونے سے پہلے وتر پڑھ لے ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

كُلَّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ (صحيح البخاري، الوتر: 996)

رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصے میں نماز وتر ادا کی ہے، بالآخر آپ کی نماز وتر وقت سحر تک پہنچ گئی۔

سیدنا ابن عمر  رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا (صحيح البخاري، الوتر: 998)

لوگو! رات کی آخری نماز، وتر کو بناؤ۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 755)

جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے۔ اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے۔

اگر کوئی انسان وتر پڑھ چکا ہو، پھر نوافل ادا کرنا چاہے تو جائز ہے لیکن وتر دوبارہ نہیں پڑھے گا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّ التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 746)

آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں آپﷺ آٹھویں کے علاوہ کسی رکعت میں نہ بیٹھتے، پھر اللہ کا ذکر کرتے، اس کی حمد بیان کرتے اور دعا فرماتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے، پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے اللہ کا ذکر اور حمد کرتے اور اس سے دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے پھر سلام کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔

مذکورہ بالا حدیث میں ذکر ہے کہ رسول اللہ وتر پڑھنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے، اس سے وتر کے بعد نوافل کی ادائیگی کا جواز معلوم ہوتا ہے۔

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الوِتْرِ رَكْعَتَيْن (سنن ترمذي، أبواب الوتر: 471)

نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

سیدنا طلق بن علی  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ (سنن ابی داود: 1439، سنن ترمذی: 470) (صحیح)

ایک رات میں دو بار وتر نہیں (پڑھے جائیں گے)۔

وتر کی  ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھی جا سکتی ہیں۔ (صحيح البخاري، الوتر: 990)

تین رکعات وتر پڑھنے کی دو کیفیتیں احادیث مبارکہ میں بیان کی گئی ہیں:

1. دورکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے ، پھرکھڑا ہوکر تیسری رکعت الگ سے پڑھے۔ (صحيح البخاري، الوتر: 991)

2. مسلسل تین رکعتیں ادا کرے اور آخر میں تشہد کے لیےبیٹھے اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔  (مستدرك حاكم: 1140سنن بیهقی: 4866)

واضح رہے! تین رکعتیں دو تشہدوں اور ایک سلام کے ساتھ، مغرب کی نماز کی طرح پڑھنا درست نہیں ہے۔ (مستدرك حاكم: 1137)

اگر کوئی شخص پانچ رکعات وتر ادا کرناچاہتا ہو تو پانچ رکعات مسلسل پڑھے اور آخر میں تشہد کے لیےبیٹھے اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔ (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 737)

اگر کوئی سات رکعات یا نو رکعات وتر پڑھنا چاہتا ہو تو آخری سے پہلےوالی رکعت میں بیٹھ کر تشہد پڑھے، لیکن سلام نہ پھیرے، پھر کھڑا ہو کر آخری رکعت ادا کرے اور تشہد پڑھنے کے بعد سلام پھیرے۔ (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 746)

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے