الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال مسجد نبوی میں اعتکاف کرتے تھے۔ آپ کی بیویاں بھی اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ کسی حدیث میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے کہ اعتکاف سے فراغت کے بعد معتکف کے گلے میں ہار وغیرہ ڈالے گئے ہوں، یا اسے گھر لے جانے کے لیے کئی لوگ اکٹھے ہو گئے ہوں۔ایسے کام دین کی اصل روح کے خلاف ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دوران اعتکاف اللہ تعالی کی رضا کی خاطر نیک اعمال کثرت کے ساتھ کرے۔ اعتکاف ختم ہونے پر خاموشی سے گھر روانہ ہو جائے۔گلے میں ہار پہنانے اورگلے ملنے سے ریاکاری اور نمائش کااندیشہ ہے، اور ایسا کرنا سلف صالحین سے ثابت بھی نہیں ہے۔
والله أعلم بالصواب.