سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نیند کی حالت میں کفریہ بات کہنا
  • 6763
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-20
  • مشاہدات : 9

سوال

زید نے نیند کی حالت میں خواب میں کفریہ بات کہہ دی، اس کیا حکم ہے؟ وہ بیداری کی حالت میں کہنا کچھ اور چاہتا تھا، لیکن زبان سے کفریہ بات نکل گئی، تو اس کا کیا حکم ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کو چاہیے کہ جب بات کرے اچھی بات کرے، ورنہ خاموش رہے۔ اپنی زبان پر قابو رکھے، کوئی بھی کلمہ اپنی زبان سے بغیر سوچے سمجھے نہ نکالے؛ کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے:

مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (ق: 18)

وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بيان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَنْزِلُ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ (صحيح مسلم، الزهد والرقائق: 2988)

(بعض اوقات) بندہ کوئی کلمہ کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے دوزخ میں اس سے بھی زیادہ دور اتر جاتا ہے جتنی دوری مشرق اور مغرب کے درمیان ہے۔

1. لیکن اگر کسی انسان نے نينذ میں کفریہ بات کہہ دی یا بیداری میں غلطی سے اس کی زبان سے کفریہ کلمہ نکل گیا،  جسے وہ کہنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا، تو وہ کافر نہیں ہو گا ۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْه سنن ابن ماجه، الطلاق: 2045) (صحيح).

بلاشبہ اللہ تعالی نے میری امت سے غلطی، بھول اور مجبوری کو رکھ دیا ہے (یعنی اس پر مؤاخذہ نہیں ہو گا)۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما  بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کو ظاہر کرو يا چھپاؤ! اللہ اس پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا۔‘‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں میں ایک چیز (شدید خوف کی کیفیت کہ احکام الہٰی کے اس تقاضے پر عمل نہ ہو سکے گا) در آئی جو کسی اور بات سے نہیں آئی تھی۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا’’کہو: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اورہم نے تسلیم کیا۔‘‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے انکے دلوں میں ایمان ڈال دیا اور یہ آیت اتاری’’اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اسی کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر (وبال) پڑتا ہے ( اسی پر برائی کا) جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا۔‘‘ اللہ نے فرمایا: ’’میں نے ایسا کر دیا۔‘‘  ’’اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے۔‘‘ فرمایا: ’’میں ایسا کر دیا۔‘‘ ’’ہمیں بخش دے! او رہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے۔‘‘ اللہ نے فرمایا: ’’میں نے ایسا کر دیا۔ (صحيح مسلم، الإيمان: 126)

والله أعلم بالصواب.

 

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے