الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر عید اور جمعہ ایک دن میں اکٹھے ہو جائیں تو جس شخص نے عید کی نماز ادا کی ہو اس كو جمعہ چھوڑنے کی رخصت ہے ، لیکن ظہر کی نمازساقط نہیں ہو گی، اسے ادا کرنا ضروری ہے۔ افضل اور بہتر یہی ہے کہ انسان جمعہ کی نماز بھی ادا کرے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اجْتَمَعَ عِيدَانِ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ إِنْ شَاءَ الله (سنن ابن ماجه، إقامة الصلاة والسنة فيها: 1311) (صحيح)
تمہارے اس دن میں دو عیدیں جمع ہوگئی ہیں تو جو شخص چاہے اس کے لیے یہ (نماز عید) جمعے کے بدلے کفایت کرے گی اور ہم ان شاء اللہ جمعہ پڑھیں گے۔
جناب عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں:
صَلَّى بِنَا ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمِ عِيدٍ -فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ- أَوَّلَ النَّهَارِ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا، فَصَلَّيْنَا وُحْدَانًا، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ، فَلَمَّا قَدِمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَال: أَصَابَ السُّنَّةَ (سنن أبي داود، تفریع أبواب الجمعة: 1071))صحيح)
حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کے روز عید کے دن، دن کے پہلے حصے میں نماز پڑھائی، پھر ہم جمعہ کے لیے گئے مگر وہ نہ آئے اور ہم نےاکیلے ہی نماز پڑھی- اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما طائف میں تھے، وہ جب آئے تو ہم نے ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے سنت پرعمل کیا ہے۔
واضح رہے کہ جمعہ چھوڑنے کی رخصت اس شخص کے لیے ہے جس نے عید کی نماز ادا کی ہو۔ اگر کسی شخص نے عید کی نماز نہیں ادا کی اس کے لیے جمعہ چھوڑنا جائز نہیں ہے۔
والله أعلم بالصواب.