سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
رمضان میں گناہ کی سزا بھی زیادہ ہے
  • 6738
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-27
  • مشاہدات : 10

سوال

رمضان میں نیک کاموں کا اجر کئی گنا ملتا ہے، کیا گناہوں کی صورت میں بھی ایسا ہی معاملہ ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رمضان المبارک اور دیگر فضیلت والے زمانوں میں جیسے نیک اعمال کا ثواب بہت زیادہ ملتا ہے، ایسے ہی  برے اعمال کا گناہ بھی بڑھ جاتا ہے، لیکن ثواب کے زیادہ ہونے اور گناہ کے زیادہ ہونے میں فرق ہے۔ رمضان میں نیکیوں کا ثواب تعداد میں بھی بڑھ جاتا ہے اور کیفیت میں بھی، یعنی ایک نیکی دس گنا یااس سے بھی زيادہ بڑھ جاتی ہے، اورکیفیت سے مراد یہ ہے کہ اس نیکی کا ثواب زیادہ اورعظیم ہوتا ہے۔ لیکن برائی  میں صرف کیفیت کے اعتبارسے اضافہ ہوتا ہے، یعنی اس کا گناہ بہت زیادہ اورسزا بہت سخت ہوتی ہے، لیکن تعداد کے اعتبارسے ایک برائی ایک ہی رہتی ہے ،ایک سے زيادہ نہيں ہوتی۔

ارشاد باری تعالی ہے:

مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلا يُجْزَى إِلا مِثْلَهَا وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ (الأنعام:160)

جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہوں گی اور جو برائی لے کر آئے گا سو اسے جزا نہیں دی جائے گی، مگر اسی کی مثل اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

اسی طرح جو جگہیں فضیلت والی  ہیں، جیسے مکہ ومدینہ وغیرہ ان  میں بھی نیکیوں اور برائیوں کا ثواب اور گناہ بڑھ جاتا ہے۔ نیکیاں تعداد اور کیفیت ہر دو لحاظ سے بڑھ جاتی ہیں، جبکہ برائیوں میں اضافہ صرف کیفیت کے اعتبار سے ہوتا ہے،  تعداد میں نہیں ہوتا۔

ارشاد باری تعالی ہے:

 وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (الحج: 25)

اور جو بھی اس (حرم مکہ) میں کسی قسم کے ظلم کے ساتھ کسی کج روی کا ارادہ کرے گا ہم اسے درد ناک عذاب سے مزہ چکھائیں گے۔

مذکورہ آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم اس کے گناہ کی تعداد بڑھا دیں گے، بلکہ یہ فرمایا کہ ہم اسے دردناک عذاب چکھائيں گے، یعنی اسے سخت ترین اور تکلیف دہ سزا دیں گے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے