الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
عقیقہ بچہ پيدا ہونے كى خوشى ميں اللہ تعالى كےشکرانے کے طور پر ضروری قرار دیا گیا ہے، یہ بچہ پیدا ہونے کے بعد ساتویں دن کیا جائے گا، جیسا کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كلُّ غلامٍ رَهينةٌ بعقيقتِه: تُذبَح عنه يومَ سابعِه، ويُحلَقُ، ويُسمَّى (سنن أبي داود، الأضاحي: 2838). (صحيح)
ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہوتا ہے، جو اس کی طرف سے ساتویں دن ذبح کیا جائے گا، اس کے سر کو منڈوایا جائے گا اور اس کا نام رکھا جائے گا۔
اس لیے عقیقہ بچہ ہونے کے بعد ساتویں دن کیا جائے گا اگر بچہ جمعہ والے دن پیدا ہوا ہے تو ساتواں دن جمعرات ہو گا اگر اتوار کو پیدا ہوا ہے تو ساتواں دن ہفتہ ہو گا، ہاں اگرمالی مجبوری یا مسئلے سے لاعلمی کی بنا پر ساتویں دن عقیقہ نہیں کیا جا سکا تو جب بھی خوش حالی میسر آئے یا مسئلہ کا علم ہو جائے تو عقیقہ کیا جا سکتا ہے۔
بھینس کا عقیقہ کرنا
نبی کریم ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ (سنن أبي داود، الضحايا: 2842 )صحيح)
جس کے ہاں بچے کی ولادت ہو اور وہ اس کی طرف سے صدقہ اور قربانی کرنا چاہتا ہو تو کرے، لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر برابراور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔
حديث مبارکہ میں ’’شاة‘‘ کا لفظ آیا ہے، یہ لفظ عربی زبان میں بھیڑ اور بکری دونوں پر بولا جاتا ہے، اس لیے عقیقہ میں بھیڑ یا بکری دونوں ذبح کیے جا سکتے ہیں۔
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں:
نُفِسَ لعبدِ الرَّحمنِ بنِ أبِي بكرٍ غلامٌ ، فقيل لعائشةَ – رضِي اللهُ عنهَا - يا أمَّ المؤمنين عُقِّي عنه جَزورًا، فقالت : معاذَ اللهِ ، ولكن ما قال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ : شاتانِ مُكافَئتانِ (السلسلة الصحيحة: 2720)
عبد الرحمن بن ابو بکر کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ اے ام المؤمنین! اس بچے کی طرف سے اونٹ بطور عقیقہ ذبح کریں، تو انہوں نے کہا اللہ کی پناہ! ، (میں وہی ذبح کروں گی) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے : دو بکریاں برابر برابر۔
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ میں بھیڑ یا بکری ہی کیے جا سکتے ہیں، اونٹ یا گائے کا عقیقہ کرنا جائزنہیں ہے۔
والله أعلم بالصواب.